کرنل صوفیہ قریشی سے متعلق دیے گئے مبینہ توہین آمیز بیان کے معاملے میں سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو اہم ہدایت جاری کی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور ریاستی وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف فوجداری کارروائی کی اجازت دینے یا نہ دینے پر دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کرے۔
سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ، جس کی صدارت جسٹس سوریہ کانت کر رہے تھے اور جس میں جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس جوی مالیا باگچی شامل تھے، نے واضح طور پر کہا کہ حکومت اس بنیاد پر فیصلہ مؤخر نہیں کر سکتی کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ عدالت نے حکومت کو اگلی سماعت سے قبل حالیہ صورتحال پر مبنی رپورٹ داخل کرنے کی بھی ہدایت دی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ کنور وجے شاہ کے بیان کی جانچ کے لیے قائم کی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم اپنی تفتیش مکمل کر چکی ہے اور اپنی حتمی رپورٹ ریاستی حکومت کو سونپ دی گئی ہے، تاہم اب تک فوجداری کارروائی کی اجازت کے معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران کنور وجے شاہ کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل منیندر سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے معافی مانگ لی ہے اور تفتیش میں مکمل تعاون کیا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا،
“اس معاملے میں معافی مانگنے میں بہت دیر ہو چکی ہے۔ ہم دو ہزار چھبیس میں ہیں۔”
سپریم کورٹ کنور وجے شاہ کی اُس درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں انہوں نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اُس ازخود نوٹس کے حکم کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
یہ معاملہ بارہ مئی دو ہزار پچیس کا ہے، جب کنور وجے شاہ نے ضلع اندور کے راکُندا گاؤں میں ایک عوامی پروگرام کے دوران مبینہ طور پر بھارتی فوج کی سینئر افسر کرنل صوفیہ قریشی سے متعلق توہین آمیز تبصرہ کیا تھا۔ یہ بیان پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد انجام دیے گئے آپریشن سندور کے تناظر میں دیا گیا تھا۔
کرنل صوفیہ قریشی، وِنگ کمانڈر ویومیکا سنگھ اور خارجہ سکریٹری وکرم مسری کے ساتھ آپریشن سندور سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دینے والی اہم شخصیات میں شامل تھیں۔ کنور وجے شاہ کے بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
بعد ازاں چودہ مئی دو ہزار پچیس کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ کنور وجے شاہ کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعات ایک سو باون، ایک سو چھیانوے ذیلی دفعہ (ب) اور ایک سو ستانوے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
انیس مئی دو ہزار پچیس کو سپریم کورٹ نے بیان کو “شرمناک” قرار دیتے ہوئے تین رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے قیام کا حکم دیا تھا۔ اس ٹیم میں انسپکٹر جنرل پرمود ورما، ڈپٹی انسپکٹر جنرل کلیان چکرورتی اور ضلع ڈنڈوری کی پولیس سپرنٹنڈنٹ واہنی سنگھ شامل تھیں۔
کنور وجے شاہ آٹھ مرتبہ کے رکنِ اسمبلی ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے نمایاں قبائلی رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی متعدد تنازعات میں گھر چکے ہیں، جن میں دو ہزار تیرہ میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ کی اہلیہ سے متعلق تبصرہ، خواجہ سرا طبقے کے بارے میں بیان اور وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے لیے گئے متنازع فیصلے شامل ہیں۔
اب سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مدھیہ پردیش حکومت مقررہ مدت کے اندر فوجداری کارروائی کی اجازت کے معاملے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔