اڈانی گروپ کے نام پر دائر ہتک عزت کے مقدمے میں صحافی روی نائر کو مجرم قرار دیے جانے کے بعد کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن نے سخت احتجاج درج کیا ہے۔ تنظیم نے اسے صحافت کی آزادی اور جمہوری اختلاف رائے پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔
بدھ کے روز جاری پریس بیان میں کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک صحافی تک محدود نہیں ہے بلکہ ان تمام آوازوں کے لیے تنبیہ ہے جو کارپوریٹ گھرانوں اور ریاست کے درمیان تعلقات پر سوال اٹھاتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق روی نائر طویل عرصے سے کارپوریٹ اثر و رسوخ، عوامی وسائل کی تقسیم اور پالیسی فیصلوں میں شفافیت جیسے موضوعات پر رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔
تنظیم نے الزام عائد کیا کہ سنجیدہ سوالات کے جواب دینے کے بجائے ہتک عزت جیسے قانونی ضوابط کا استعمال تنقیدی صحافت کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ برسوں میں کارکنان، طلبہ اور صحافیوں کے خلاف سخت قوانین، خصوصاً غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔
تنظیم نے یہ بھی کہا کہ قدرتی وسائل، زمین کے حصول اور صنعتی منصوبوں سے جڑے تنازعات میں آواز بلند کرنے والوں کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ کارپوریٹ جوابدہی سے متعلق معاملات میں متوقع سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔
عدلیہ کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن نے کہا کہ کارپوریٹ ہتک عزت کے مقدمات میں فوری کارروائی دیکھنے کو ملتی ہے، جبکہ ریاستی مبینہ زیادتیوں سے متعلق معاملات میں تاخیر سامنے آتی ہے۔ تنظیم نے عدالتی خودمختاری اور ادارہ جاتی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
تنظیم نے چار اہم مطالبات پیش کیے ہیں: روی نائر کی سزا واپس لی جائے، فوجداری ہتک عزت کے قانون کے غلط استعمال پر روک لگائی جائے، صحافت کی آزادی کو تحفظ فراہم کیا جائے اور کارپوریٹ و ریاستی تعلقات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
تنظیم نے سول سوسائٹی، صحافتی اداروں اور جمہوری گروہوں سے اس مسئلے پر متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جمہوریت میں آزاد میڈیا کا کردار اقتدار سے سوال کرنا ہوتا ہے اور اسے کمزور کرنا جمہوری اقدار کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔