بومبے ہائی کورٹ نے مالابار گولڈ کو سوشل میڈیا تنازع میں بڑی ریلیف دی

انصاف ٹائمس ڈیسک

بامبے ہائی کورٹ نے پیر کے روز مالابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز لمیٹڈ کو بڑی ریلیف دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت کی ہے کہ وہ وہ تمام پوسٹس ہٹائیں جن میں کمپنی کو “پاکستان حمایت کنندہ” قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی پوسٹس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کمپنی نے برمنگھم، برطانیہ میں نیا شو روم کھولنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے پروموشن کے لیے اس نے JAB اسٹوڈیوز کے ذریعے لندن میں مقیم پاکستانی انفلوئنسر علی صبا خالد کو مقرر کیا تھا۔ تاہم، بعد میں خالد نے بھارت کے “آپریشن سندور” کی تنقید کی تھی۔ مالابار گولڈ نے دعویٰ کیا کہ ان کی خدمات اس بیان سے پہلے حاصل کی گئی تھیں اور کمپنی کو ان کی پاکستانی پس منظر کی اطلاع نہیں تھی۔

جسٹس سندیپ مارنے کی سنگل جج بینچ نے کمپنی کے حق میں عارضی حکم جاری کیا۔ میٹا (فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ)، ایکس (سابقہ ٹویٹر)، گوگل (یوٹیوب) اور چند نیوز ایجنسیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس معاملے سے متعلق تمام پوسٹس، اسٹوریز اور مواد ہٹا دیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں کسی بھی پلیٹ فارم پر اس قسم کا توہین آمیز مواد شائع نہ کیا جائے۔

کمپنی کے سینئر وکیل نوشاد انجینئر نے عدالت میں کہا کہ “صرف ایک انفلوئنسر کی خدمات لینا کمپنی کی ذمہ داری نہیں بناتا، خاص طور پر جب وہ بعد میں متنازعہ بیان دے۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کمپنی نے علی صبا کی خدمات فوری طور پر ختم کر دی تھیں۔

سوشل میڈیا پر #BoycottMalabarGold اور #BoycottMalabar جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے تھے۔ کچھ ہندو توا حامی ہینڈلز نے کمپنی کے مالک ایم۔پی۔ احمد پر “جہادی نیٹ ورک” سے تعلقات کے الزامات لگائے۔ علاوہ ازیں، کچھ نے کمپنی کی اسکالرشپ اسکیمز کو “لوو جہاد” سے جوڑا۔

ملابار گولڈ پہلے بھی تنازعات میں رہا ہے۔ 2024 میں کمپنی کی “گرل چلڈ” اسکالرشپ پر الزام لگایا گیا تھا کہ اسے ہندو لڑکیوں کو مذہب تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بومبے ہائی کورٹ نے ان الزامات کو بھی “غیر قانونی اور توہین آمیز” قرار دیتے ہوئے پوسٹس ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

اگلی سماعت 11 نومبر کو ہوگی، جس میں عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ مستقل حکم جاری کیا جائے یا نہیں۔

یہ کیس سوشل میڈیا پر برانڈ کی ساکھ کے تحفظ اور ڈیجیٹل دور میں تجارتی تنازعات کے نئے پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور