انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار کی سیاست میں اِن دنوں سب سے زیادہ جس نام پر گفتگو ہو رہی ہے، وہ ہے پرشانت کشور (پی کے)۔ کبھی ملک کا سب سے بڑا انتخابی اسٹریٹیجسٹ مانے جانے والے پی کے اب خود سیاست کے میدان میں اتر چکے ہیں اور اپنی نئی پارٹی ’’جن سوراج‘‘ کے ساتھ ریاست کی سیاست کو نیا رخ دینے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
پرشانت کشور کا سفر کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ 1977 میں بکسّر میں پیدا ہوئے پی کے نے اپنا کیریئر پبلک ہیلتھ سے شروع کیا اور 2011 سے سیاست کی حکمتِ عملی تیار کرنے لگے۔ 2014 کا نریندر مودی انتخابی کیمپین ہو، مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی جیت یا آندھرا پردیش میں جگن ریڈی کی تاریخی کامیابی—ہر جگہ پی کے کی حکمتِ عملی نے لیڈروں کو اقتدار تک پہنچایا۔
لیکن اب پی کے خود میدان میں ہیں۔ اکتوبر 2022 سے شروع ہونے والی ’’جن سوراج پدیاترا‘‘ کے بعد 2 اکتوبر 2024 کو انہوں نے پٹنہ میں اپنی پارٹی لانچ کی۔ ان کا فوکس بالکل صاف ہے—تعلیم، صحت، روزگار اور بہار سے ہجرت جیسے مسائل کو سیاست کے مرکز میں لانا۔
جن سوراج کی کامیابیاں
پنچایت سطح پر کور ٹیموں کی تشکیل اور زمینی سرگرمی۔
ذات پر مبنی سیاست کے بجائے تعلیم، صحت اور روزگار جیسے مسائل پر زور۔
پردیسی نوجوانوں تک رسائی اور سوشل میڈیا پر مضبوط گرفت۔
گرام پنچایت مکالمہ کی روایت اور عوام سے براہِ راست رابطہ۔
بڑے چیلنجز
مضبوط اور منظم تنظیم کی کمی۔
بہار کی سیاست میں ذات پات کے مساوات کو توڑنے کی مشکل۔
عوام کے ذہن میں سوال—کیا ایک اسٹریٹیجسٹ پی کے بطور لیڈر اعتماد حاصل کر سکیں گے؟
اتحاد کا حصہ بنیں گے یا اکیلے میدان میں اتریں گے—یہ بھی بڑا سوال ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ پی کے سیاست کو پیشہ ورانہ اور مہنگا بنا رہے ہیں، جبکہ حامیوں کا ماننا ہے کہ روایتی پارٹیوں سے مایوس عوام کے لیے یہ تبدیلی ضروری ہے۔
2025 کا اسمبلی انتخاب ’’جن سوراج‘‘ کے لیے اصل امتحان ہوگا۔ کیا یہ پارٹی تیسرے متبادل کے طور پر ابھرے گی، کسی اتحاد میں شامل ہوگی یا ابتدائی جوش کے بعد حاشیے پر چلی جائے گی—اس کا فیصلہ عوام ہی کریں گے۔
ایک سال میں جن سوراج نے یہ ثابت ضرور کیا ہے کہ عوام کے درمیان جا کر ان کے مسائل سننا سیاست کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پرشانت کشور اس طاقت کو اقتدار میں بدل پاتے ہیں یا نہیں۔