بہار مہیلا کانگریس میں بھونچال: صوبائی صدر ثروت جہاں فاطمہ نے عہدے سے استعفیٰ دیا، ٹکٹ تقسیم میں خواتین کی نظراندازی کو قرار دیا وجہ

بہار مہیلا کانگریس کی صدر ڈاکٹر ثروت جہاں فاطمہ نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر ریاستی کانگریس تنظیم میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ فاطمہ نے اپنا استعفیٰ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کو بھیجتے ہوئے کہا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں خواتین کو صرف 8 فیصد ٹکٹ دیے جانے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وہ عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔

فاطمہ نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے لکھا “سیاست کے کئی پیمانے ہوتے ہیں، مگر اپنے 25 سالہ سیاسی سفر میں میں نے صرف اخلاقیات اور بے خوفی کو ہی اپنا پیمانہ بنایا ہے۔ اس بار ٹکٹ کی تقسیم میں خواتین کو کانگریس میں صرف 8 فیصد نمائندگی ملی — جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں پارٹی کی خاتون قیادت صفر پر پہنچ گئی۔ میں اس صورتحال کو گہرے دکھ کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری کے طور پر قبول کرتی ہوں۔”

اپنے باضابطہ استعفیٰ خط میں ڈاکٹر ثروت جہاں فاطمہ نے واضح طور پر لکھا کہ بہار اسمبلی انتخابات میں خواتین کو نہایت کم ٹکٹ دیے جانا “خواتین کی قیادت اور ویمن امپاورمنٹ کے کانگریس کے بنیادی نظریے کے خلاف ہے۔” انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ ریاستی مہیلا کانگریس کی صدر کو ٹکٹ دینے کی روایت رہی ہے لیکن اس بار وہ بھی ایک اقلیت سے تعلق رکھنے والی خاتون صدر ہونے کے باوجود اس روایت کو توڑ دیا گیا۔

فاطمہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 28 مہینوں میں مہیلا کانگریس کی تنظیم کو بوتھ سطح تک مضبوط کیا گیا، تربیتی پروگرام، مہمات اور گھر گھر رابطہ مہم کے ذریعے خواتین ووٹرز تک رسائی بڑھائی گئی اور سماجی و اقتصادی طور پر محروم طبقے کی خواتین کو فیصلہ ساز سطح پر جوڑا گیا۔

اپنے خط میں انہوں نے کانگریس کی تاریخ میں خواتین کو بااختیار بنانے کی وراثت کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیراعظم اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کے کردار کو یاد کیا۔ ساتھ ہی راہل گاندھی کے نعرے “ناری نیائے — آدھی آبادی، پورا حق” کا بھی تذکرہ کیا۔

فاطمہ نے واضح کیا کہ ان کا فیصلہ کسی خفگی یا ناراضی کی وجہ سے نہیں بلکہ کانگریس کے تئیں وفاداری اور خواتین کے حقوق کے تئیں سچی وابستگی کے سبب ہے۔
انہوں نے لکھا “عہدے بدل سکتے ہیں، مگر جدوجہد اور عزم نہیں۔ آئندہ بھی میں کانگریس اور خواتین کے حقوق کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کرتی رہوں گی۔”

اسمبلی انتخابات کے بعد بہار کانگریس میں بڑھتی بے چینی کے درمیان اس استعفیٰ نے پارٹی کی اندرونی صورتحال پر مزید سوال کھڑے کر دیے ہیں — خاص طور پر ایسے وقت میں جب خواتین قیادت اور اقلیتی نمائندگی کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔

فی الحال کانگریس ہائی کمان کی جانب سے اس استعفیٰ پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ادھر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم ریاستی کانگریس کی تنظیمی اور انتخابی حکمت عملی پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور