بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے چودھویں دن محکمۂ داخلہ کے بجٹ پر بحث کے دوران نائب وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ سمراٹ چودھری نے پولیس فورس کی توسیع، جدید کاری اور فلاح و بہبود سے متعلق کئی اہم اعلانات کیے۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ کے درمیان انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں ریاست اب “انتہاپسندی سے پاک” ہو چکی ہے اور حکومت قانون و نظم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ محکمۂ داخلہ میں کل 60 ہزار تقرریاں کی جائیں گی، جن میں سے 31 ہزار عہدے پولیس فورس میں پُر کیے جائیں گے۔ اگنی ویر اسکیم کے تحت خدمات انجام دے چکے جوانوں کو ریزرویشن کی بنیاد پر تقرری دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خالی آسامیوں کو پُر کر کے تھانوں اور خصوصی یونٹوں کی کارکردگی میں اضافہ کیا جائے گا۔
پولیس کی فوری ردِعمل صلاحیت بڑھانے کے لیے 1500 اسکوٹی اور 2500 موٹر سائیکلیں خریدی جائیں گی۔ خواتین کی سلامتی اور سماجی شمولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے “پولیس دیدی” پہل شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
بھاگلپور میں نئی مُکتی کاراگار کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ ریاست کی 40 پولیس لائنوں میں “جیونیکا دیدی رسوئی” شروع کی جائے گی۔ تمام پولیس لائنوں میں ایک ایک اسکول کھولنے کی بھی منصوبہ بندی ہے تاکہ پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
رہائشی سہولتوں میں توسیع پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27 ہزار اہلکاروں کے لیے 618 عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ خواتین سپاہیوں کے لیے تقریباً 1300 رہائشی یونٹس کی تعمیر کی تجویز ہے۔ اسپیشل سیکیورٹی گروپ (ایس ایس جی) میں بم ناکارہ بنانے والا دستہ تشکیل دیا جائے گا اور صنعتی علاقوں کی حفاظت کے لیے دو نئی بٹالینیں تعینات کی جائیں گی۔
تکنیکی جدید کاری پر زور دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیسنگ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو بڑھایا جائے گا۔ ای-ایف آئی آر نظام کے تحت موصول درخواستوں میں 96.1 فیصد معاملات میں ایف آئی آر درج کیے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے اسے شفافیت کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق ہر تھانے میں ایس پی سطح کے افسر عوامی دربار لگائیں گے اور اس کی نگرانی کی جائے گی کہ کتنے معاملات نمٹائے گئے۔
اس دوران رکنِ پارلیمان پپو یادو کی گرفتاری پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سمراٹ چودھری نے کہا کہ جو لوگ بہار پولیس کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے تھے، وہ ہوائی اڈے پر اترنے کے دو گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیے گئے۔ انہوں نے اسے پولیس کی سرگرمی کا ثبوت قرار دیا۔
محکمۂ داخلہ کے ان اعلانات کو ریاست میں قانون و نظم کو مزید مضبوط بنانے اور پولیس فورس کو وسائل سے آراستہ کرنے کی سمت ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اب ان منصوبوں کے عملی نفاذ کی رفتار پر نظر رہے گی۔