انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست کی سیاست میں ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے دوران بہار کی ووٹر لسٹ سے تقریباً 23 لاکھ خواتین کے نام جان بوجھ کر نکال دیے گئے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر خواتین دلت اور مسلم کمیونٹی سے ہیں اور یہ اقدام خاص طور پر ان 59 اسمبلی حلقوں میں اٹھایا گیا ہے جہاں 2020 کے انتخابات میں سخت مقابلہ ہوا تھا۔
اکھل بھارتیہ خواتین کانگریس کی صدر الکا لامبا نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ یہ کارروائی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے اشارے پر کی گئی۔ انہوں نے کہا، “بہار میں تقریباً 3.5 کروڑ خواتین ووٹر ہیں، لیکن SIR کے دوران 22.7 لاکھ خواتین کے نام ہٹا دیے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ خواتین آنے والے انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گی۔ یہ آئین اور جمہوریت کے خلاف ہے۔”
لامبا نے ان اضلاع کے نام بھی لیے جہاں سب سے زیادہ خواتین کے نام نکالے گئے—گوپال گنج، سارن، بیگوسرائے، سمستی پور، بھوجپور اور پورنیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اضلاع کی تقریباً 60 اسمبلی سیٹوں پر اس عمل کے تحت “بھاری دھوکہ دہی” کی گئی۔
الیکشن کمیشن نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کہا کہ SIR کا مقصد ووٹر لسٹ کو صحیح اور اپ ڈیٹ کرنا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ لسٹ سے صرف ان لوگوں کے نام نکالے گئے ہیں جو یا تو فوت ہو چکے تھے، منتقل ہو گئے تھے یا جن کے دستاویزات نامکمل تھے۔ کمیشن نے یقین دہانی کرائی کہ تمام اہل شہری ووٹ ڈال سکیں گے اور کوئی بھی غیر اہل شخص لسٹ میں شامل نہیں ہوگا۔
کانگریس کے الزامات کے بعد حزبِ اختلاف کے دیگر جماعتیں بھی متحرک ہو گئی ہیں۔ RJD اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے اور انتخابی کمیشن سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس نے اس “ووٹ چوری” کے خلاف ملک گیر دستخط مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
بہار کی ووٹر لسٹ سے لاکھوں خواتین کے نام ہٹنے کا معاملہ اب سیاسی اور انتخابی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ اس تنازع کے درمیان جمہوریت کے عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اب سب کی نظریں انتخابی کمیشن پر ہیں کہ وہ اس معاملے میں کیا اقدام کرتا ہے۔