بہار کی سیاست میں بجٹ اجلاس کے دوران ممکنہ پارٹی تبدیلی کو لے کر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ قیاس آرائیاں ہیں کہ انڈین نیشنل کانگریس کے چھ میں سے چار اراکینِ اسمبلی پالا بدل سکتے ہیں۔ اگرچہ پارٹی قیادت نے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور این ڈی اے کے اتحادیوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق تنظیمی فیصلوں، علاقائی مسائل کی نظراندازی اور مہاگٹھ بندھن میں کردار کو لے کر بعض اراکینِ اسمبلی میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی غیر یقینی کی کیفیت بتائی جا رہی ہے۔ حالات کے پیش نظر 23 جنوری کو دہلی میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بہار کے اراکینِ اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کی تھی، جسے ممکنہ ٹوٹ کو روکنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
پردیش کانگریس صدر راجیش رام نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی مکمل طور پر متحد ہے اور ٹوٹ کی خبریں مخالفین کی سازش ہیں۔ ان کے مطابق تمام اراکین پارٹی لائن پر قائم ہیں۔
اسمبلی کے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے 89 اور جنتا دل (یونائیٹڈ) کے 85 اراکین ہیں۔ اگر کانگریس کے چار اراکین این ڈی اے میں شامل ہوتے ہیں تو طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ اسی لیے مجوزہ کابینہ توسیع کو بھی سیاسی تجزیہ کار عددی مساوات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
بی جے پی کے رہنما بھوپیندر یادو نے کانگریس کو بہار میں کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رکن وزیر اعظم کی پالیسیوں سے متاثر ہو کر حمایت دینا چاہتا ہے تو اس کا خیرمقدم ہے، تاہم کسی باضابطہ بات چیت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
بہار کی سیاست میں بجٹ اجلاس کے دوران بڑے سیاسی اتھل پتھل کی تاریخ رہی ہے۔ اعتماد کے ووٹ، اتحاد میں تبدیلی اور پارٹی بدل جیسے واقعات اکثر اسی عرصے میں سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے میں موجودہ قیاس آرائیوں نے سیاسی درجۂ حرارت بڑھا دیا ہے۔
دریں اثنا آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بھی احتیاطی قدم اٹھایا ہے۔ پارٹی سربراہ اسدالدین اویسی نے بجٹ اجلاس سے قبل حیدرآباد میں ’’دارالسلام ڈے‘‘ کے موقع پر بہار کے اپنے اراکینِ اسمبلی کو طلب کر کے میٹنگ کی اور ان کا استقبال کیا۔ تاہم فی الحال سیاسی توجہ کانگریس پر مرکوز ہے، جہاں ممکنہ ٹوٹ کی بحث نے مہاگٹھ بندھن کی سیاست کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
کانگریس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنے اراکین کو متحد رکھنا اور اپوزیشن اتحاد کا پیغام دینا ہے، جبکہ این ڈی اے کی جانب سے خاموشی کے باوجود سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اب سب کی نظریں بجٹ اجلاس کی آئندہ کارروائی اور ممکنہ کابینہ توسیع پر مرکوز ہیں, کیا یہ محض سیاسی دباؤ کی حکمتِ عملی ہے یا بہار میں ایک اور بڑا سیاسی کھیل ہونے والا ہے۔