بہار اسمبلی میں “بیچارا” تنازع: رام ولاس پاسوان کے احترام پر ایل.جے.پی.آر اور آر.جےڈی آمنے سامنے، ایوان میں ہنگامہ

رام ولاس پاسوان سے متعلق ایک بیان پر بہار اسمبلی میں سیاسی درجۂ حرارت تیز ہو گیا ہے۔ “بیچارا” لفظ کے استعمال پر لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی آر) کے وزراء اور اراکینِ اسمبلی نے منگل کے روز ایوان کے احاطے میں شدید احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا اور راشٹریہجنتادل (آر جے ڈی) سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا۔

تنازع اُس وقت شروع ہوا جب بودھ گیا سے آر جے ڈی کے رکنِ اسمبلی کمار سروَجیت نے ایوان میں رام ولاس پاسوان کا مجسمہ نصب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے “بیچارا رام ولاس پاسوان” کے الفاظ استعمال کیے۔ ایل جے پی آر نے اسے مرحوم رہنما اور دلت برادری کی توہین قرار دیا ہے۔

دھرنے کے دوران ایل جے پی آر اراکین نے قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو کے خلاف نعرے بازی کی اور اعلان کیا کہ جب تک آر جے ڈی معافی نہیں مانگتی، احتجاج جاری رہے گا۔ پارٹی کے ریاستی صدر اور رکنِ اسمبلی راجو تیواری نے کہا کہ ایوان میں غیر مہذب زبان کا استعمال ناقابلِ قبول ہے اور اس کی جواب دہی طے ہونی چاہیے۔

ادھر کمار سروَجیت نے معافی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے بیان کا مقصد توہین نہیں تھا بلکہ وہ پٹنہ میں رام ولاس پاسوان کا قد آدم مجسمہ نصب کرنے کی بات کر رہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ خود پاسوان برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور رام ولاس پاسوان کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔

اس تنازع میں حکمراں اتحاد کے بعض رہنما بھی ایل جے پی آر کی حمایت میں سامنے آئے۔ بہار حکومت کے وزیر لَکھِیندر پاسوان نے آر جے ڈی پر دلت مخالف ہونے کا الزام عائد کیا، جبکہ دیہی ترقی کے وزیر شرون کمار نے کہا کہ ایوان کی وقار برقرار رکھنا تمام اراکین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

واضح رہے کہ رام ولاس پاسوان کو بہار کی دلت سیاست کا ایک اہم چہرہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ اُن کے انتقال کے بعد اُن کی سیاسی وراثت کو لے کر مختلف جماعتوں کے درمیان علامتی سیاست میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

فی الحال معافی کے مطالبے اور سخت بیانات کے باعث اسمبلی کا ماحول کشیدہ ہے اور امکان ہے کہ یہ معاملہ آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ایس.ڈی.پی.آئی کے تایید الاسلام کا الزام: بنگال میں ۶۵ لاکھ ناموں کی تنسیخ، ووٹر فہرست کی غیر جانب داری پر سنگین سوالات

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی سکریٹری تایید الاسلام نے

مدھوبنی میں جعلی نوٹ کا کاروبار: مبینہ ملزم ‘لادن’ گرفتار، پاکستانی شہری فرار

بہار کے مدھوبنی میں انڈو‑نیپال سرحد کھلنے کے بعد اسمگلنگ کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں،

بہار میں استاد بھرتی میں بڑا تبدیلی: اب بی.ٹیٹ نہیں، صرف سی.ٹیٹ پاس کرنا لازمی

بہار حکومت نے استاد بھرتی کے عمل میں بڑا تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی

جھوٹے مقدمے میں بری ہونے والے کامریڈ راجا رام سنگھ کا بھاکپا-مالے نے شاندار استقبال کیا

2012 میں بہار پولیس کی جانب سے لگائے گئے جھوٹے مقدمات میں بھاکپا-مالے کے رہنما