انصاف ٹائمس ڈیسک
بریلی میں پرامن “آئی لو محمد” مہم کے دوران عالم دين مولانا توقیر رضا خان کی گرفتاری نے سیاسی اور سماجی بحث کو بھڑکا دیا ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) اور جماعت اسلامی نے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان جاری کرتے ہوئے SDPI کے قومی نائب صدر محمد شفیع نے کہا کہ مولانا کی حراست یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت کی امتیازی پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے، جو مسلم کمیونٹی کو نشانہ بناتی ہیں اور مذہبی آزادی کو دبا رہی ہیں۔ شفی نے بریلی میں ہونے والے پرتشدد اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پوسٹر اور تختیاں تھامنے والوں پر لاٹھی چارج، ہزاروں کی گرفتاری اور انٹرنیٹ سروسز کی 48 گھنٹے تک معطلی آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے اور اس میں فرقہ وارانہ امتیاز صاف نظر آتا ہے۔
جماعت اسلامی کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے بھی گرفتاری پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ “جو آغاز ایک سادہ عبادت اور عقیدت کے اظہار کے طور پر ہوا، اسے عوامی نظم و نسق کے لیے خطرہ بتا کر مجرمانہ قرار دے دیا گیا۔ یہ نہ صرف بھارت کی کثیرالثقافتی روایات پر حملہ ہے، بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے فرقہ وارانہ تقسیم کا بھی واضح مثال ہے۔”
حسینی نے الزام لگایا کہ مولانا توقیر رضا پر لگائے گئے ایف آئی آر اور دیگر الزامات بغیر ٹھوس شواہد اور مناسب تحقیقات کے بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ غلط طریقے سے حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے اور انتظامیہ میں برابری، انصاف اور تناسب قائم کیا جائے۔
دونوں رہنماؤں نے مسلم کمیونٹی سے پرامن اور صبر و تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ پیغمبر محمد ﷺ کے صبر، رحمت اور ہمدردی کے پیغام پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی طرح کے تنازع یا تشدد سے بچا جائے۔
بریلی کی یہ واقعہ ایک بار پھر مذہبی آزادی، اظہار رائے کی آزادی اور آئینی حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ شہری معاشرہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے یہ معاملہ اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے تاکہ سیاسی مقاصد کے لیے قانون کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔