دہلی ہائی کورٹ نےپیر کے روز سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ایم کے فیضی کو منی لانڈرنگ کے ایک مقدمے میں ضمانت دے دی۔ یہ معاملہ انفورنسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے درج کیا گیا تھا۔
عدالت نے سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت منظور کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت دیے جانے کا مطلب الزامات سے بریت نہیں ہے اور مقدمے کی سماعت ٹرائل کورٹ میں جاری رہے گی۔
ای ڈی نے فیضی کو مارچ 2025 میں پی ایم ایل اے کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ بعض مالی لین دین مشتبہ پائے گئے، جن کی جانچ جاری ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے عدالت میں یہ دلیل بھی دی تھی کہ ملزم کا عہدہ اور اثر و رسوخ تفتیش کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس سے قبل نچلی عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
قابلِ ذکر ہے کہ ایم کے فیضی کو جنوری 2026 میں دوبارہ ایس ڈی پی آئی کا قومی صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی تھی جب پارٹی وقف ترمیمی بل کے خلاف ملک گیر احتجاج چلا رہی تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پارٹی رہنماؤں اور حامیوں نے اسے راحت بخش قدم قرار دیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ ٹرائل مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ مقدمے کی آئندہ سماعت کی تاریخ جلد مقرر کی جائے گی۔