سینئر مسلم رہنما اور جمیعت علماءِ ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مرکز کی نئی ہدایات کے تحت “وَندے ماترم” کے نفاذ کی شدید تنقید کی ہے۔ ان ہدایات کے مطابق سرکاری تقریبات، اسکول، کالج اور عوامی پروگراموں میں قومی گانا “وَندے ماترم” کے تمام چھ اشعار لازمی طور پر گائے جائیں گے۔ مدنی نے اسے مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔
مدنی نے اپنے بیان میں کہا، “حکومت کا یہ فیصلہ یکطرفہ اور دباؤ میں لیا گیا ہے۔ وندے ماترم کے کچھ اشعار وطن کو دیوتا کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو توحیدی مذاہب کے بنیادی عقائد کے خلاف ہیں۔ ایک مسلمان صرف اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ اسے ایسے الفاظ گانے پر مجبور کرنا آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حب الوطنی نعروں سے نہیں، بلکہ کردار اور قربانی سے ثابت ہوتی ہے۔ مدنی نے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ سیاسی ایجنڈے اور فرقہ وارانہ سیاست کے لیے کیا گیا ہے۔
متعدد مسلم رہنماؤں اور تنظیموں نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ حزبِ اختلاف اور اسلامی گروہوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم آئینی اقدار اور سیکولر ازم کے خلاف ہے اور سماجی ہم آہنگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ملک بھر میں وندے ماترم کے موضوع پر بحث زور پکڑ گئی ہے۔ کچھ اسے حب الوطنی کی علامت مانتے ہیں، جبکہ دیگر اسے مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہیں۔