انصاف ٹائمس ڈیسک
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے گوتم بدھ یونیورسٹی، گریٹر نوئیڈا کی ایک خاتون ملازمہ کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی تادیبی کارروائی “تعصب اور دشمنی سے متاثر” تھی۔
متاثرہ مینا سنگھ نے سابق قائم مقام رجسٹرار ایس۔این۔ تیواری پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ شکایت درج کرانے کے بعد ہی یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی اور آخرکار 14 دسمبر 2024 کو انہیں برطرف کر دیا۔
جسٹس منجو رانی چوہان کی بینچ نے جمعہ کو سنائے گئے فیصلے میں برطرفی کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ مینا سنگھ کو وائس چانسلر کے اسٹاف آفیسر کے عہدے پر فوری طور پر بحال کیا جائے۔ یہ خاتون ملازمہ کی چوتھی برطرفی تھی، جسے عدالت نے غلط قرار دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا “یہ واضح معاملہ درخواست گزار کے غیر ضروری ہراسانی کا ہے۔ تمام کارروائیاں صرف اسی وقت شروع کی گئیں جب انہوں نے رجسٹرار کے خلاف شکایت درج کروائی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں نشانہ بنانے اور پریشان کرنے کے لیے انتقامی رویہ اختیار کیا۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خواتین کی بااختیاری اور کام کی جگہ پر تحفظ کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ عدالت نے واضح اشارہ دیا ہے کہ شکایت کرنے پر کسی ملازم کو سزا دینا قانون کے تحت قابل قبول نہیں۔
یہ فیصلہ نہ صرف مینا سنگھ کے لیے انصاف دلانے والا ہے بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور دیگر اداروں کے لیے بھی انتباہ ہے کہ ناانصافی اور انتقامی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔