الٰہ آباد ہائی کورٹ نے رمضان میں نماز پر پابندی پر لگائی پھٹکار، کہا قانون و انتظام بہانے نہیں بن سکتے

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بدھ کو سمبل ضلع میں رمضان کے موقع پر مسجد میں نماز پڑھنے کے معاملے میں ریاست اور مقامی انتظامیہ کو سخت انتباہ دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی برادری کے مذہبی حقوق کو “ممکنہ قانون و انتظام” کے بہانے محدود نہیں کیا جا سکتا۔

معاملہ کیا تھا

درخواست گزار، مناظر خان، نے گاتا نمبر 291 (سمبل) میں واقع مسجد میں نماز پڑھنے سے روکے جانے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ رمضان کے دوران بڑی تعداد میں لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں، لیکن انتظامیہ نے صرف بیس افراد کو اجازت دی تھی۔

عدالت کا حکم

جج اتل شردرن اور جج سدھارتھ نندن کی بنچ نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر برادری کو پرامن طریقے سے عبادت کرنے کا حق حاصل ہو۔ اگر مقامی انتظامیہ قانون و انتظام قائم رکھنے کے قابل نہیں ہے، تو انہیں اپنے عہدے پر رہنے کی بجائے استعفیٰ دینا چاہیے یا کہیں اور تبادلے کی درخواست کرنی چاہیے۔

آئینی موقف

عدالت نے یہ بھی کہا کہ نجی جائیداد پر عبادت کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ریاستی اجازت صرف اس وقت ضروری ہوتی ہے جب مذہبی تقریب عوامی زمین یا سڑکوں تک پھیل جائے۔

آئندہ کارروائی

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ وہ فوٹوگراف اور محصول کے ریکارڈ پیش کریں۔ اگلی سماعت 16 مارچ 2026 کو “Top 10 Cases” میں درج کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مذہبی آزادی کے حقوق (آرٹیکلز 25 اور 26) کو مضبوط کرتا ہے اور انتظامیہ کو یاد دلاتا ہے کہ قانون و انتظام کے بہانے مذہبی سرگرمیوں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

پریس کلب آف انڈیا میں سریندر گاڈلنگ کی رہائی کا مطالبہ گونجا، وکلا اور صحافیوں نے کہا: “جمہوری حقوق پر سنگین حملہ”

ملک کے چرچت بھیما کوریگاؤں معاملہ میں جیل میں قید عوامی وکیل سریندر گاڈلنگ کی