ذاتی مکان میں جمعہ کی نماز ادا کرنے سے روکنے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بریلی کے ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوراگ آریہ کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ افسران سے سوال کیا ہے کہ سابقہ عدالتی حکم کے باوجود ایسی کارروائی کیوں کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق 16 جنوری 2026 کو ضلع بریلی کے گاؤں محمد گنج میں ریشما خان کے نجی مکان میں مقامی مسلم برادری کے چند افراد جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔ مکان مالک کی اجازت سے محدود تعداد میں لوگ گھر کے اندر جمع ہوئے تھے۔ الزام ہے کہ پڑوس کے کچھ خاندانوں کی شکایت پر پولیس موقع پر پہنچی اور نماز رکوا دی، ساتھ ہی آئندہ ایسی مذہبی سرگرمی کے لیے پیشگی اجازت لینے کی ہدایت دی۔
اس کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے طارق خان نے ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی۔
جسٹس اتُل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کے دوران اپنے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا، جو ماراناتھا فل گاسپل منسٹریز اور امانوئیل گریس چیریٹیبل ٹرسٹ کی عرضیوں پر صادر کیا گیا تھا۔ اس فیصلے میں واضح کیا گیا تھا کہ نجی احاطے میں مذہبی دعائیہ اجتماع کے لیے پیشگی اجازت ضروری نہیں، بشرطیکہ وہ عوامی سڑک یا سرکاری املاک تک نہ پھیلے اور امن و امان متاثر نہ ہو۔
بنچ نے کہا کہ اگر نماز مکمل طور پر نجی مکان کے اندر ادا کی جا رہی تھی اور اس سے عوامی امن میں خلل نہیں پڑ رہا تھا تو اسے روکنا آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت دی گئی مذہبی آزادی کے حق کے منافی ہو سکتا ہے۔
عدالت نے ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقررہ مدت میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان سے یہ بھی واضح کرنے کو کہا گیا ہے کہ کارروائی کس قانونی بنیاد پر کی گئی اور کیا واقعی کوئی سنگین امن و امان کی صورتِ حال پیدا ہوئی تھی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ نجی احاطوں میں مذہبی سرگرمیوں اور انتظامیہ کے اختیارات کے درمیان توازن سے متعلق ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر عدالت توہینِ عدالت قرار دیتی ہے تو آئندہ ایسے معاملات میں انتظامیہ کے لیے واضح رہنما خطوط طے ہو سکتے ہیں۔ کیس کی آئندہ سماعت مقررہ تاریخ پر ہوگی۔