انصاف ٹائمس ڈیسک
جھارکھنڈ کی طلبہ سیاست میں سرگرم تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کا تیسرا ریاستی اجلاس 8 اکتوبر 2025 کو دھنباد میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اجلاس میں بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی اور ریاست میں عوامی فنڈ سے چلنے والی معیاری تعلیم کے تحفظ کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کرنے کا عزم کیا۔
اجلاس میں منظور کی گئی قراردادوں میں نئی تعلیمی پالیسی (NEP) اور FYUP نظام کے ذریعے ہونے والی تعلیم کی نجی کرن اور بھگواکرن (ہندوتوا کے اثر) کی سخت مخالفت نمایاں رہی۔ نمائندوں نے کہا کہ مرکزی مودی حکومت اور ریاستی حکومت دونوں ہی سطحوں پر تعلیم کے شعبے میں عدم مساوات بڑھانے والی پالیسیاں نافذ کر رہی ہیں، جن کے خلاف منظم جدوجہد کی جائے گی۔
اجلاس میں جھارکھنڈ میں ابتدائی سے اعلیٰ تعلیم تک کے زوال پذیر حالات پر تشویش ظاہر کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تعلیم سے متعلق قوانین میں اصلاحات کر کے انہیں طلبہ کے مفاد میں لائے۔ اس کے علاوہ آدیواسی اور پسماندہ طبقات کے طلبہ پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی گئی اور ان کے حقوق کی جدوجہد کو تیز کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اجلاس میں تنظیم کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 65 رکنی ریاستی کونسل، 29 رکنی عاملہ اور 15 رکنی عہدیداروں کی ٹیم تشکیل دی گئی۔
کامریڈ تریلوکی ناتھ کو تیسری مرتبہ ریاستی سکریٹری اور کامریڈ وبھا پُشپا دیپ کو دوسری مرتبہ ریاستی صدر منتخب کیا گیا۔
آئیسا کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ اجلاس جھارکھنڈ میں فاشسٹ طاقتوں کے خلاف طلبہ اتحاد کے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔
اجلاس کا اختتام “انقلابی طلبہ تحریک زندہ باد!” اور“نو منتخب عہدیداران کو لال سلام!”جیسے نعروں کے ساتھ ہوا