آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ملک بھر کے وقف جائیداد کے منتظمین (متولیان) سے اپیل کی ہے کہ وہ وقف جائیدادوں کی تفصیلات اُمید پورٹل پر اپ لوڈ کرانے کے لیے بغیر کسی تاخیر کے اپنی اپنی ریاستوں کے وقف ٹریبونل سے فوری طور پر رجوع کریں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ کئی ریاستوں میں وقف ٹریبونل سے رجوع کرنے پر مدت میں توسیع جیسے مثبت اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، جنہیں دیگر ریاستوں میں بھی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے ایک بیان میں بتایا کہ اب تک اتر پردیش، پنجاب، گجرات، آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور تامل ناڈو میں وقف جائیدادوں کی اپ لوڈنگ کے لیے چھ ماہ کی اضافی مہلت منظور کی جا چکی ہے۔ جبکہ کیرالہ میں پانچ ماہ، تلنگانہ اور راجستھان میں تین ماہ اور چھتیس گڑھ، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں دو ماہ کی مدت میں توسیع دی گئی ہے۔ انہوں نے ان فیصلوں کو وقف جائیدادوں کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
مولانا مجددی نے کہا کہ جن ریاستوں میں اب تک وقف ٹریبونل سے رجوع نہیں کیا گیا ہے، وہاں کے متولی اگر ان ریاستوں کے فیصلوں کو بنیاد بنا کر درخواستیں پیش کریں تو اسی نوعیت کے مثبت نتائج سامنے آنے کی پوری امید ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے بورڈ کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت وقف جائیدادوں کی اپ لوڈنگ کے معاملے میں حقیقت پسندانہ اور عملی رویہ اختیار کرے گی اور وقت میں توسیع پر غور کیا جائے گا۔
بورڈ نے بالخصوص ان ریاستوں کے متولیان، ٹرسٹیوں، مسلم تنظیموں اور عام مسلمانوں سے اپیل کی ہے جہاں پہلے ہی مدت میں توسیع دی جا چکی ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور جلد از جلد وقف جائیدادوں کی تفصیلات اپ لوڈ کرنے کے عمل کو مکمل کریں، تاکہ اُمید ایکٹ کے تحت ممکنہ تعزیری کارروائی سے بچا جا سکے۔
پرسنل لاء بورڈ نے واضح کیا کہ وقف جائیدادوں کی نگہداشت اور تحفظ متولیان کی محض قانونی ہی نہیں بلکہ شرعی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ بورڈ نے تمام متعلقہ فریقوں سے مکمل ہوشیاری اور مستعدی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور وقف جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے، تاکہ اس اجتماعی وراثت کی حفاظت ممکن ہو سکے۔