شدید بیمار پی.ایف l.آئی کے سابق چیئرمین ای.ابوبکر کی رہائی کا مطالبہ تیز، سی.اے.ایس.آر کا انتباہ “کہیں ایک اور سیاسی قیدی حراست میں جان نہ گنوا بیٹھے”

سیاسی قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن(ریاستی جبر کے خلاف مہم) نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے سابق چیئرمین ای.ابوبکر کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ 72 سالہ ابوبکر کو انسانی اور طبی بنیادوں پر فوری طور پر رہا کیا جائے۔جاری کردہ پریس بیان کے مطابق ریٹائرڈ استاد، صحافی اور سماجی کارکن ای۔ ابوبکر گزشتہ تین سال چھ ماہ سے سخت انسدادِ دہشت گردی قانون یو اے پی اے (غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ) کے تحت بطور انڈر ٹرائل قیدی جیل میں بند ہیں۔ اس دوران ان کی صحت مسلسل گرتی جا رہی ہے اور حالیہ دنوں میں ان کی حالت نہایت نازک بتائی جا رہی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ابوبکر شدید سینے کے انفیکشن اور تیز کھانسی میں مبتلا ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی سطح میں خطرناک اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ان کے خون میں آکسیجن کی سطح بھی کم ہو گئی ہے، جس سے ان کی صحت کو لے کر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔صحت سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جیل انتظامیہ نے انہیں علاج کے لیے دہلی کے دین دیال اپادھیائے ہسپتال میں داخل کرایا ہے۔ تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ اتنی سنگین حالت میں بھی ایک معمر قیدی کو جیل میں رکھنا انسانی ہمدردی اور سیاسی قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے سنگین لاپروائی کو ظاہر کرتا ہے۔پریس بیان کے مطابق ابوبکر طویل عرصے سے کئی سنگین بیماریوں سے بھی جوجھ رہے ہیں۔ انہیں پارکنسن بیماری، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل لاحق ہیں۔ اس کے علاوہ سنہ 2020 میں ان میں ایک نایاب اور مہلک کینسر گیسٹرو ایسوفیجیئل جنکشن ایڈینوکارسینوما کی بھی تشخیص ہوئی تھی، جس کے لیے انہیں کیموتھراپی اور سرجری سے گزرنا پڑا تھا۔ ان کی موجودہ حالت ایسی ہے کہ روزمرہ کے معمولات کے لیے بھی انہیں مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت پڑتی ہے۔تنظیم نے کہا کہ ابوبکر کی حالت ان سیاسی قیدیوں کی یاد دلاتی ہے جن کی حراست میں مناسب طبی سہولت نہ ملنے کے باعث موت ہو گئی۔ بیان میں اسٹین سوامی، پانڈو نروٹے، جی.این سائی بابا اور کنچن نناورے کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان واقعات نے حراست میں طبی لاپروائی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کیے تھے۔سی اے ایس آر نے ملک بھر کے شہری حقوق کی تنظیموں، جمہوری گروہوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاء، دانشوروں اور فکر مند شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر ابوبکر کی رہائی اور مناسب علاج کا مطالبہ کریں تاکہ تاریخ خود کو دہرانے سے روکا جا سکے۔*تنظیم کے اہم مطالبات1۔ای۔ ابوبکر کو انسانی اور طبی بنیادوں پر فوری طور پر رہا کیا جائے۔2۔ انہیں بغیر کسی تاخیر کے مناسب طبی علاج فراہم کیا جائے۔3۔ تمام سیاسی قیدیوں کے زندگی اور وقار کے حق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔اس مہم میں شامل رکن تنظیموں میں اے آئی آر ایس او، اے پی سی آر، اے ایس اے، بی اے ایس ایف، بی ایس ایم، بھیم آرمی، بی ایس سی ای ایم، سی ای ایم، کلیکٹو، سی آر پی پی، سی ایس ایم، سی ٹی ایف، ڈی آئی ایس ایس سی، ڈی ایس یو، ڈی ٹی ایف، فورم اگینسٹ ریپریشن تلنگانہ، فریٹرنٹی، آئی اے پی ایل، انوسینس نیٹ ورک، کرناٹک جن شکتی، ایل اے اے، مزدور حقوق سنگٹھن، مزدور پترکا، این اے پی ایم، نظریہ، نشانت ناٹیہ منچ، نوروز، این ٹی یو آئی، پیپلز واچ، رہائی منچ، سماجوادی جن پریشد، سماجوادی لوک منچ، بہوجن سماجوادی منچ، یونائیٹڈ پیس الائنس، ڈبلیو ایس ایس اور وائی فار ایس سمیت متعدد تنظیمیں شامل ہیں۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے انسانی بنیادوں پر مداخلت نہیں کی گئی تو یہ معاملہ بھی ملک میں حراستی اموات اور سیاسی قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے ایک بڑی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور