1 جنوری کی شام کو تریپورہ کی دارالحکومت اگرتلا میں مسلم رکشہ ڈرائیور دیدار حسین پر مبینہ طور پر چار سے پانچ نامعلوم افراد نے ظالمانہ حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق اسے ریت میں آدھا دبایا گیا اور آگ لگا کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے شہر میں شدید غصہ اور احتجاج پھوٹ پڑا۔
پولیس کے مطابق، یہ واقعہ شام تقریباً 6:30 بجے گانگائل نیویدیتا کلب کے قریب پیش آیا۔ حملہ آوروں نے پہلے دیدار حسین سے اس کا نام پوچھا اور پھر اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر حملہ کیا۔ حسین نے بتایا کہ حملہ آوروں نے اسے ریت کے ڈھیر میں دبانے کے بعد آگ لگانے کی کوشش کی، لیکن وہ چیخنے لگا تو ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔
دیدار حسین نے دُرگا چومکھانی چوکی میں تحریری شکایت درج کرائی، جس میں اس حملے کو “سنگین اور ناقابل ضمانت جرم” قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں شدید جسمانی اور نفسیاتی صدمہ پہنچا ہے اور وہ اس وقت علاج کروا رہے ہیں۔
مقامی رہائشی حبیب الرّحمن کے مطابق، حسین سے نام پوچھنے کے بعد حملہ آوروں نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیا۔ جب حسین نے پوچھا کہ اس کا کیا قصور ہے، تو ملزمان صرف سرحد پار کے واقعات کی بات کرتے رہے۔
پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا کی دفعہ 109 (قتل کی کوشش)، 115(2) (شدید چوٹ پہنچانا) اور 326 (آگ لگا کر قتل یا کوشش) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اب تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
اس حملے کے خلاف کانگریس کے رکن اسمبلی سدیپ رائے برمن اور ٹپرا موٹھا کے رہنما شاہ عالم کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ مبینہ طور پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے درمیان آیا ہے، جس سے تریپورہ میں سماجی کشیدگی میں اضافہ ہوا اور قانون و انتظامیہ پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔