کیا ڈیلیوری کے بعد بھی کوئی زندگی ہے؟ , مضمون نگار: نامعلوم انگریزی سے ترجمہ: ڈاکٹر علیم خان فلکی، حیدرآباد 9642571721

ماں کے پیٹ میں دو بچے پل رہے تھے۔ایک نے پوچھا : کیا تم یقین رکھتے ہو کہ ڈیلیوری کے بعد پھر کوئی زندگی ہوگی؟دوسرے نے کہا : کیوں نہیں؟ بالکل ہوگی؛ ہونا بھی چاہئے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم یہاں اس لئے ہیں کہ کل ہم جو کچھ ہوں گے اُس کے لئے یہاں سے ہی اُس کیلئے تیاری کریں۔پہلے نے کہا: کیا بیوقوفی کی باتیں کرتے ہو؛ ڈیلیوری کے بعد کوئی زندگی نہیں ہوگی۔ سوچو؛ بھلا وہ کیسی زندگی ہوگی؟دوسرے نے کہا: مجھے نہیں پتہ۔ مگر یہاں سے زیادہ وہاں روشنی ہوگی۔ ہوسکتا ہے ہم وہاں اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہوسکیں گے، چل پھر سکیں گے۔ ہمارے منہ سے خود کھاسکیں گے۔پہلے نے کہا: یہ تو بالکل احمقانہ بات ہے۔ چلنے پھرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ناممکن ہے۔اور اپنے منہ سے کھائیں گے؟ کیا پاگل پن کی باتیں کرتے ہو۔ یہ جو غذا کی نالی ہے، وہ بھی اتنی چھوٹی سی، اسی کے ذریعے تو ہم کو غذا ملتی ہے۔ سوچو، یہ نکال دی جائے گی تو پھر ہم کو غذا کیسے ملے گی؟دوسرے نے کہا: میرے خیال سے کچھ نہ کچھ تو ہوگا جو اِس سے مختلف ہی ہوگا۔پہلے نے کہا: یہاں سے جاکر آج تک کوئی واپس نہیں آیا۔ یہ ثبوت ہے اِس بات کا کہ ڈیلیوری کے بعد کوئی زندگی دوبارہ نہیں ہوسکتی۔ ڈیلیوری کے بعد صرف ایک تاریکی، ایک اضطراب، ایک ایسا منظر ہوگا جس کے نہ آگے کچھ ہوگا نہ پیچھے، کوئی راستہ نہیں ہوگا۔دوسرے نے کہا: ہونہہہہہ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ۔ لیکن ہم اپنی ماں کے دیکھ سکیں گے۔ وہ ہماری دیکھ بھال کرے گی۔پہلے نے کہا: کیا کہا۔۔ماں؟ ہا ہا ہا؛۔۔۔ تمہارا عقیدہ ہے کہہ کوئی ماں بھی ہوگی؟ اگر وہ ہے تو اب کہاں ہے؟ نظر کیوں نہیں آتی؟دوسرے نے کہا: ماں ہے۔ وہی ہم کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ ہم اسی کے گھیرے میں تو رہتے ہیں۔ اگر وہ نہ ہوتی تو ہم اِس دنیا میں ہرگز نہ ہوتے۔پہلے نے کہا عقل کی بات کرو۔ لاجِک سوچو۔ لاجِک یہ ہے کہ چونکہ وہ نظر نہیں آتی، اس لئے ماں واں کا کوئی وجود نہیں۔دوسرے نے کہا: جب تنہائی میں مکمل خاموشی چھاجاتی ہے، تو اس وقت ماں کو محسوس کرسکتے ہو۔ مجھے تو پورا یقین ہے کہ ڈیلیوری کے بعد ایک حقیقی دنیا ہے۔ ہم کو اسی حقیقت کا سامنا کرنے کے لئے یہاں اپنے آپ کو تیار کرنا ہے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور