بنگال بی.جے.پی کا بائیں بازو کے اتحاد سے وابستہ جماعت ایس.ڈی.پی.آئی پر پی.ایف.آئی سے تعلق کا الزام، حقیق الاسلام کا جواب “الیکشن کمیشن پہلے ہی ان دعوؤں کی تردید کر چکا ہے”؛ تمل ناڈو میں ڈی.ایم.کے، کانگریس اور سی.پی.آئی.ایم کے ساتھ ایس.ڈی.پی.آئی کے اتحاد پر بھی بحث جاری

مغربی بنگال میں انتخابی ماحول کے درمیان سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کو لے کر ایک نیا سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مغربی بنگال یونٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ کے بعد ریاستی سیاست میں الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ بی جے پی نے اپنے سرکاری فیس بک پیج پر دعویٰ کیا کہ مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کے ریاستی سیکریٹری محمد سلیم نے بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ایس ڈی پی آئی کے امیدوار مشیع الرحمان کی حمایت کی ہے۔ ساتھ ہی بی جے پی نے ایس ڈی پی آئی کو ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کی “شاخ” قرار دیا۔

بی جے پی کے اس بیان پر ایس ڈی پی آئی مغربی بنگال کے ریاستی صدر حقیق اللاسلام نے سخت ردعمل دیتے ہوئے بی جے پی پر “جھوٹ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور خوف کی سیاست” کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی منظم طریقے سے سوشل میڈیا کے ذریعے ایس ڈی پی آئی کے خلاف جھوٹی اور مسخ شدہ معلومات پھیلا رہی ہے تاکہ انتخابی فائدے کے لیے معاشرے میں فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کی جا سکے۔

حقیق الاسلام نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی الیکشن کمیشن کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ اور تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے، جو مکمل طور پر آئین، جمہوری اقدار اور قانونی دائرے کے اندر کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ملک بھر میں سماجی انصاف، جمہوری حقوق، دلت، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے سرگرم ہے۔

انہوں نے ۳ اکتوبر ۲۰۲۲ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے واضح طور پر کہا تھا کہ ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی کے درمیان کوئی بھی ثابت شدہ تعلق موجود نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بیان اس وقت قومی میڈیا ادارے انڈیا ٹوڈے میں بھی شائع ہوا تھا۔ اس کے باوجود بی جے پی بار بار پرانے اور غیر ثابت شدہ الزامات دہرا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر نے کہا کہ بی جے پی کی یہ سیاست صرف ایک جماعت کو بدنام کرنے تک محدود نہیں بلکہ جمہوری نظام اور آئینی اقدار پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی انتخابی فائدے کے لیے معاشرے میں خوف اور نفرت کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے۔

حقیق الاسلام نے یہ بھی کہا کہ ایس ڈی پی آئی کی تمام سرگرمیاں مکمل شفافیت اور قانونی دائرے میں چلائی جاتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں پارٹی کے ایک ہزار سے زائد منتخب عوامی نمائندے فعال طور پر عوامی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی اور گمراہ کن معلومات سے متاثر نہ ہوں اور صرف حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے فطری ہے، لیکن کسی قانونی جماعت کو جھوٹے الزامات کے ذریعے بدنام کرنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ بی جے پی کی جانب سے پھیلائے جانے والے گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ ایک قانونی سیاسی جماعت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے روکا جا سکے۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ مغربی بنگال میں ایس ڈی پی آئی اس بائیں بازو کے اتحاد کا حصہ ہے جس کی قیادت سی پی آئی ایم کر رہی ہے۔ اس اتحاد میں مختلف بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ انڈین سیکولر فرنٹ بھی شامل ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی اسی اتحاد کو نشانہ بنا کر بائیں بازو کی سیاست اور اقلیتی سیاست دونوں پر حملہ کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔

دوسری جانب تمل ناڈو میں ایس ڈی پی آئی دراوڑ منیتر کزگم کی قیادت والے اتحاد کے ساتھ منسلک ہے، جس میں سی پی آئی ایم، کانگریس، انڈین یونین مسلم لیگ اور ودوتھلائی چروتھائیگل کاچی سمیت کئی جماعتیں شامل ہیں اور اسے انڈیا اتحاد کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی جان بوجھ کر مختلف ریاستوں میں موجود سیاسی حقائق کو نظر انداز کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بھارتی سیاست میں علاقائی اور انتخابی اتحاد وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور تقریباً تمام بڑی جماعتیں مختلف ریاستوں میں مختلف سیاسی و سماجی گروہوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہیں۔ اس تناظر میں ایس ڈی پی آئی کو لے کر جاری بحث اب صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ملک کی سیاست میں اتحاد، فرقہ واریت اور جمہوری سیاست کے بڑے مباحث میں تبدیل ہو چکی ہے۔

بی جے پی کی سوشل میڈیا پوسٹ میں ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کے ایک پرانے متنازع بیان کا بھی حوالہ دیا گیا۔ بی جے پی نے اپوزیشن جماعتوں پر تنگ نظری کی سیاست کا الزام لگاتے ہوئے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی شناخت، زبان اور خاندان کے تحفظ کے نام پر سوچ سمجھ کر ووٹ دیں۔

دوسری طرف ایس ڈی پی آئی اور اس کے حامی اس پورے تنازعے کو بی جے پی کی انتخابی پولرائزیشن پر مبنی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی سیاسی مخالفین کو بدنام کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی بنگال میں انتخابی ماحول کے دوران اقلیتی سیاست، بائیں بازو کا اتحاد، بی جے پی کی نظریاتی سیاست اور چھوٹی علاقائی جماعتوں کا کردار آنے والے دنوں میں مزید اہم ہو سکتا ہے۔ اس طرح ایس ڈی پی آئی سے شروع ہونے والا یہ تنازعہ صرف ایک سیاسی بحث نہیں بلکہ ریاستی اور قومی سیاست میں بدلتے ہوئے اتحاد اور انتخابی حکمت عملی کی گہری تصویر بھی پیش کرتا ہے۔

ایس ڈی پی آئی کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ: ہمنتا بسوا سرما کے مبینہ فرقہ وارانہ بیان پر کارروائی کی جائے

سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر مبینہ طور

20 سال تک غیر ملکی آمدن پر ٹیکس معافی: ترکیہ کا بڑا داؤ، خلیجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی کوشش

ترکیہ نے عالمی سرمایہ کاروں اور غیر ملکی شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے