سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر مبینہ طور پر فرقہ وارانہ بیان دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے بھارت کے الیکشن کمیشن سے ان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے قومی جنرل سیکریٹری محمد الیاس تھمبے نے حالیہ بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سرما کا یہ کہنا کہ “آسام میں آنے والے ہندو مہاجر ہیں جبکہ مسلمان درانداز ہیں” انتخابی ماحول کو متاثر کرنے اور معاشرے کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔
محمد الیاس تھمبے کے مطابق اس طرح کے بیانات کا مقصد ووٹروں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا اور ایک مخصوص طبقے کو سیاسی طور پر الگ تھلگ دکھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران اس طرح کی زبان جمہوری عمل کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ “درانداز” جیسے الفاظ کا بار بار استعمال بغیر کسی واضح سرکاری اعداد و شمار کے کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرے میں خوف اور بے اعتمادی کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ بے دخلی مہمات اور ووٹر لسٹ سے متعلق خبریں بھی انتظامی عمل کے غلط استعمال کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
ایس ڈی پی آئی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے کر سخت کارروائی کرے تاکہ انتخابی عمل کی غیر جانبداری برقرار رہے اور کوئی بھی سیاسی رہنما مذہب کی بنیاد پر ووٹروں کو متاثر نہ کر سکے۔
محمد الیاس تھمبے نے کہا کہ آئین کی بنیادی روح اور جمہوری اقدار کا تحفظ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، اور اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو اس سے معاشرتی پولرائزیشن مزید بڑھ سکتا ہے۔
اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بھی بیان بازی تیز ہونے کا امکان ہے، تاہم اب تک متعلقہ فریق کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
SDPI #HimantaBiswaSarma #ElectionCommission #AssamPolitics #CommunalPolitics #IndianPolitics #Democracy #ElectionsIndia #PoliticalNews #InsaafTimes #MinorityRights #IndiaNews