غزہ میں 20 سال بعد انتخابات کا آغاز، مگر جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری: کم ٹرن آؤٹ، بڑھتا انسانی بحران اور حماس–فتح کشمکش سے مستقبل غیر یقینی

غزہ کی پٹی میں ایک جانب تقریباً دو دہائیوں بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا، تو دوسری جانب نام نہاد جنگ بندی کے باوجود جاری فوجی کارروائیوں اور سنگین انسانی بحران نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تازہ پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ فلسطین میں سیاسی عمل، زمینی تشدد اور علاقائی سفارت کاری بیک وقت ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔

انتخابات: محدود شرکت، مگر بڑا پیغام

دیر البلح میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو 2006 کے بعد غزہ میں پہلا اہم انتخابی عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ محمود عباس کی قیادت میں فتح کو مغربی کنارے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی، جبکہ غزہ میں بھی اس کے حمایت یافتہ امیدواروں نے برتری دکھائی۔ اگرچہ حماس نے باضابطہ طور پر انتخابات میں حصہ نہیں لیا، تاہم بعض امیدواروں کو اس کے قریب سمجھا گیا۔

غزہ میں ووٹنگ کی شرح محض 23 فیصد رہی، جبکہ مغربی کنارے میں یہ 56 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق کم ٹرن آؤٹ کی بنیادی وجوہات میں بے گھر ہونا، عدم تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی شامل ہیں۔

جنگ بندی کے باوجود تشدد جاری

اکتوبر 2023 میں اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ صحت حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں کم از کم چار فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ مقامی ذرائع نے ڈرون حملوں، فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات دی ہیں۔

غزہ سٹی، خان یونس اور وسطی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔ اسرائیل کی جانب سے قائم کردہ نام نہاد “یلو لائن” کے باعث غزہ کا بڑا حصہ فوجی کنٹرول میں آ چکا ہے، جہاں نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

گہراتا ہوا انسانی بحران

مسلسل حملوں اور ناکہ بندی کے نتیجے میں غزہ میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق ضروری سامان کی فراہمی انتہائی محدود ہے۔ طبی سہولیات کی کمی، بڑے پیمانے پر بے دخلی اور صاف پانی کی عدم دستیابی نے صورتحال کو نہایت سنگین بنا دیا ہے۔

مقامی آبادی روزمرہ زندگی، تحفظ اور بنیادی ضروریات کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

علاقائی تناظر اور آگے کا راستہ

ادھر ایران، امریکہ اور لبنان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں جزوی کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد عالمی توجہ دوبارہ غزہ پر مرکوز ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق دیگر محاذوں پر سکون یا تو غزہ میں فوجی دباؤ بڑھا سکتا ہے یا کسی ممکنہ سفارتی حل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ تاہم سب سے بڑا تنازع حماس کے غیر مسلح ہونے اور غزہ کے انتظامی کنٹرول کے سوال پر برقرار ہے۔

غزہ میں حالیہ انتخابات سیاسی عمل کی واپسی کا عندیہ دیتے ہیں، لیکن جاری تشدد اور بڑھتا ہوا انسانی بحران اس عمل کی مؤثریت پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں پائیدار امن اور دیرپا حل ابھی دور دکھائی دیتا ہے۔

Gaza #Palestine #Israel #Ceasefire #MiddleEast #InsaafTimes

ایس ڈی پی آئی کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ: ہمنتا بسوا سرما کے مبینہ فرقہ وارانہ بیان پر کارروائی کی جائے

سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر مبینہ طور

20 سال تک غیر ملکی آمدن پر ٹیکس معافی: ترکیہ کا بڑا داؤ، خلیجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی کوشش

ترکیہ نے عالمی سرمایہ کاروں اور غیر ملکی شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے