خلیجی جنگ: جنوبی لبنان میں جنگ بندی بے اثر، طیّبہ میں حزب اللہ کا اسرائیلی فوجیوں، امدادی ٹیم اور فوجی ہیلی کاپٹر پر ڈرون حملہ، اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتیں، سات قصبوں میں جبری نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سے گہرا ہوتا انسانی بحران

جنوبی لبنان ایک بار پھر شدید فوجی تصادم کا مرکز بن گیا ہے، جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ حالیہ پیش رفت نے نہ صرف علاقائی امن کی کوششوں کو دھچکا دیا ہے بلکہ عام شہریوں کے لیے حالات انتہائی خوفناک بنا دیے ہیں۔

*طیّبہ میں ہیلی کاپٹر پر حملہ: جنگ کا نیا محاذ

حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے علاقے طیّبہ میں اسرائیلی فوج کے ایک ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب اسرائیلی فوج ایک فوجی آپریشن کے دوران زخمی اہلکاروں کو نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔

حزب اللہ کے مطابق، اس نے نہ صرف ہیلی کاپٹر بلکہ امدادی کارروائی کے لیے پہنچنے والے فوجیوں اور ایک نئی قائم کی گئی آرٹلری پوزیشن کو بھی ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم اب زیادہ مربوط اور تکنیکی طور پر جدید حملے کر رہی ہے۔

*اسرائیلی فضائی حملے: ہلاکتوں میں اضافہ

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق، اتوار کو ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 14 افراد ہلاک جبکہ 37 زخمی ہوئے۔

حملوں کا دائرہ صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ نبطیہ صوبے اور دیگر اندرونی علاقوں تک پھیل گیا۔ کئی دیہات میں دھوئیں کے بادل اور تباہی کے مناظر دیکھے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

جبری انخلا کے احکامات: ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور

اسرائیل نے جنوبی لبنان کے سات قصبوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ علاقے دریائے لیتانی کے شمال میں واقع ہیں اور نام نہاد “بفر زون” سے باہر ہونے کے باوجود فوجی کارروائیوں کی زد میں ہیں۔

اسرائیلی فوج نے لوگوں کو شمال اور مغرب کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔ اس اعلان کے بعد ہزاروں افراد صیدا اور صور جیسے شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ پہلے سے بے گھر لاکھوں افراد کے درمیان یہ نئی نقل مکانی انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

جنگ بندی پر الزامات اور جوابی دعوے

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے الزام عائد کیا ہے کہ حزب اللہ مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور اس کی سرگرمیاں اس معاہدے کو کمزور کر رہی ہیں۔

دوسری جانب، حزب اللہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کارروائیاں “اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں جائز مزاحمت” ہیں۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل 500 سے زائد مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو باضابطہ طور پر تسلیم ہی نہیں کیا، اس لیے وہ خود کو اس کا پابند نہیں سمجھتی۔

بڑھتا انسانی نقصان: 2,500 سے زائد ہلاکتیں

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق، 2 مارچ سے شروع ہونے والے اس نئے مرحلے میں اب تک 2,500 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 7,700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ان میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔ مسلسل بمباری اور عدم استحکام نے صحت کی سہولیات، خوراک کی فراہمی اور امدادی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی تباہی: سولر پینل، سڑکیں اور کھیت متاثر

جنوبی لبنان کے قصبے دبل میں اسرائیلی فوج کی جانب سے بلڈوزر کے ذریعے سولر پینلز کو تباہ کیے جانے کی اطلاعات نے صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، یہ سولر پینلز علاقے میں بجلی کی فراہمی کا اہم ذریعہ تھے، جو پانی کی سپلائی کو بھی چلاتے تھے۔ ان کی تباہی سے نہ صرف بجلی کا بحران بڑھ گیا بلکہ پینے کے پانی کی دستیابی بھی متاثر ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ کئی گھروں، سڑکوں اور زیتون کے درختوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے مقامی معیشت، خاص طور پر زراعت، کو شدید دھچکا لگا ہے۔

علاقائی استحکام کو بڑا خطرہ

16 اپریل سے نافذ امریکی ثالثی کی جنگ بندی، جسے مئی کے وسط تک بڑھایا گیا تھا، اب کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں اور زمینی سطح پر حملے جاری ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اگر فوری اور مؤثر سفارتی مداخلت نہ ہوئی تو یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس میں دیگر طاقتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

جنوبی لبنان کی صورتحال اس وقت نہایت تشویشناک ہے۔ ایک طرف فوجی تصادم شدت اختیار کر رہا ہے، تو دوسری طرف عام شہری نقل مکانی، وسائل کی کمی اور مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ تنازع اب محض سرحدی جھڑپ نہیں رہا بلکہ ایک گہرا انسانی اور جغرافیائی سیاسی بحران بن چکا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر پڑ سکتے ہیں۔

Lebanon #Israel #Hezbollah #MiddleEast #War #Airstrikes #DroneAttack #Ceasefire #HumanitarianCrisis #BreakingNews #WestAsia #Conflict #Displacement #Netanyahu #Geopolitics

ایس ڈی پی آئی کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ: ہمنتا بسوا سرما کے مبینہ فرقہ وارانہ بیان پر کارروائی کی جائے

سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر مبینہ طور

20 سال تک غیر ملکی آمدن پر ٹیکس معافی: ترکیہ کا بڑا داؤ، خلیجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی کوشش

ترکیہ نے عالمی سرمایہ کاروں اور غیر ملکی شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے