ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید کشیدگی اب ایک فیصلہ کن سفارتی مرحلے میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ جنگ بندی کے باوجود مغربی ایشیا میں صورتحال بدستور غیر مستحکم ہے، جبکہ روس، پاکستان اور عمان جیسے ممالک مسلسل ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں, ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت روس میں موجود ہیں، جہاں ان کی ملاقات روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور روسی وزیر خارجہ سے ہو رہی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ دورہ صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ خطے کی صورتحال اور امریکہ–اسرائیل تنازع کے حل پر مرکوز ہے۔
پاکستان اور عمان اہم سفارتی مراکز بن گئے
اس بحران میں پاکستان اور عمان پسِ پردہ مذاکرات کے اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھرے ہیں۔ پاکستان میں ایران اور امریکی فریق کے درمیان کئی غیر مستقیم مذاکرات ہو چکے ہیں، جبکہ عمان آبنائے ہرمز سے متعلق تکنیکی اور سیکیورٹی معاملات پر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران نے پاکستان کی ثالثی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت “تعمیری سمت میں آگے بڑھ رہی ہے”۔
آبنائے ہرمز سب سے بڑا تنازع
آبنائے ہرمز اس پورے بحران کا سب سے حساس مسئلہ بن چکا ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران اسے اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ امریکہ اسے بین الاقوامی بحری آزادی کا معاملہ قرار دیتا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک پابندیاں اور فوجی دباؤ ختم نہیں ہوتے، یہ راستہ مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
ایران کی نئی تجویز: پہلے ہرمز، پھر جوہری مذاکرات
رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو ایک نیا تجویز نامہ بھیجا ہے، جس میں پہلے آبنائے ہرمز پر معاہدہ اور بعد میں جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بات شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایران کی اس حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر شرائط اپنے مطابق رکھنا چاہتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت مؤقف: “وہ ہمیں کال کر سکتے ہیں”
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران بات کرنا چاہتا ہے تو اسے “فون کرنا ہوگا”۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں قیادت کے حوالے سے ابہام ہے اور امریکہ مذاکرات میں زیادہ مضبوط پوزیشن رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران آمادہ ہو تو معاہدے کا امکان موجود ہے۔
جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار
8 اپریل سے نافذ عارضی جنگ بندی کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی برقرار ہے۔ امریکہ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایران اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے, دونوں ممالک ایک دوسرے پر بحری کارروائیوں کے الزامات بھی لگا رہے ہیں۔
روس اور خلیجی ممالک کی تشویش
روس نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکرات میں دباؤ اور الٹی میٹم کی پالیسی اپنا رہا ہے، جس سے حل کی راہ مزید مشکل ہو رہی ہے۔ دوسری جانب خلیجی ممالک نے زور دیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں خطے کی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور بحری راستوں کی حفاظت کو بنیادی اہمیت دی جائے۔
پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار
اس بحران میں پاکستان کا کردار مسلسل اہم ہوتا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کی ثالثی کو دونوں فریقین نے تسلیم کیا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق پاکستان اس عمل کو نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی مواقع کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔
معاہدے اور تصادم دونوں امکانات موجود
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارت کاری اور تصادم دونوں کے امکانات برقرار ہیں۔ ایک طرف مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے بنیادی تنازعات ابھی تک حل نہیں ہو سکے۔ ایران اور امریکہ کا یہ تنازع اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی توانائی، سلامتی اور جیوپولیٹیکل توازن کا مرکزی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔
IranUSConflict #AbbasAraghchi #DonaldTrump #VladimirPutin #StraitOfHormuz #PakistanMediation #MiddleEastCrisis #IranNews #USIranTalks #InsaafTimes