اسرائیل کے قومی سلامتی وزیر اتمار بین-گویر نے صریحاً شام کے صدر احمد الشرع کو “ختم کرنے” کا مطالبہ کر دیا
یہ بیان پچھلے سال جولائی میں دیے گئے متنازعہ بیانات کی تکرار ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ “شامی رہنما کو ختم کیا جانا چاہیے اور سانپ کے سر کو کاٹ دینا چاہیے۔”
ماہرین کے مطابق، یہ صرف سیاسی رائے نہیں بلکہ براہِ راست قتل کا مطالبہ ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب علاقائی تناؤ اور سفارتی کوششیں جاری ہیں اور شام اپنی سیاسی صورتحال کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اتمار بین-گویر: کون ہیں؟
اتمار بین-گویر دائیں بازو کی اوتزما یہودیت پارٹی کے رہنما اور موجودہ اسرائیل کے قومی سلامتی وزیر ہیں۔ ان کے بیانات اکثر تنازعات کا محور بن جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ان کا رویہ سخت اور انتہاپسندانہ ہے اور وہ کئی بار پڑوسی ممالک اور سیاسی مخالفین کے خلاف جارحانہ بیانات دے چکے ہیں۔
احمد الشرع: شام کی موجودہ قیادت
احمد الشرع نے جنوری 2025 میں بشار الاسد کے زوال کے بعد شام کے صدر کا عہدہ سنبھالا۔ ان کی قیادت میں شام سیاسی اصلاحات، علاقائی کنٹرول کی بحالی اور بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
الشرع اب ایک مستحکم اور تسلیم شدہ صدر ہیں اور ان کی قیادت میں ملک بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
بیان کے سیاسی اور سلامتی اثرات
ماہرین کے مطابق، بین-گویر کا بیان علاقائی تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ بیان براہِ راست شامی صدر کے جسمانی خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ سکیورٹی ایجنسیز نے پہلے ہی کئی قتل کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا ہے۔ ترکی کی خفیہ ایجنسیوں نے برطانوی ایم 16 سے الشرع کی حفاظت بڑھانے کی درخواست کی ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یہ بیان محض سیاسی الفاظ نہیں بلکہ ممکنہ عدم استحکام کی علامت ہے۔
بین الاقوامی نقطہ نظر
شام کی قیادت بار بار کہہ چکی ہے کہ وہ سفارتکاری اور پرامن حل کی طرف کام کرنا چاہتے ہیں۔ الشرع کی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کے پرانے مقدمات کو ختم کرنے اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
بین-گویر کا بیان اس کوشش کو چیلنج کرتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی امیدوں کو کم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ بیان محض متنازعہ تبصرہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سلامتی اور علاقائی استحکام پر سنگین اثر ڈال سکتا ہے۔ شام اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان یہ بیان مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نئی چیلنج پیدا کر سکتا ہے۔