خلیجی جنگ: آبنائے ہرمز کے بحران میں بھارت کو جزوی راحت، ایران نے ۲۸ میں سے ۲ ایل پی جی جہازوں کو اجازت دی، خلیج سے آنے والی ۵۰ ارب ڈالر ترسیلاتِ زر پر بھی خطرہ

مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ اور سمندری غیر یقینی صورتحال کے درمیان بھارت کے لیے ایک طرف راحت کی خبر سامنے آئی ہے تو دوسری طرف خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایک جانب ایران نے انتہائی اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے بھارت کے دو ایل پی جی ٹینکروں کو خصوصی اجازت دے دی ہے، جبکہ دوسری جانب اس بحران نے خلیجی ممالک سے بھارت آنے والی اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر اور توانائی کی فراہمی پر بھی خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان کئی مرحلوں میں بات چیت ہوئی۔ اس کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ان سفارتی رابطوں کے بعد ایران نے بھارت کے دو جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزرنے کی اجازت دیتے ہوئے انہیں بھارت کی طرف روانہ ہونے کا راستہ دے دیا۔

بھارت کے دو ایل پی جی ٹینکروں کو خصوصی اجازت

رپورٹس کے مطابق بھارت کے دو ایل پی جی ٹینکر — شیوالک اور نندا دیوی — کو آبنائے ہرمز عبور کر کے بھارت آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں سے ایک جہاز اس اہم سمندری راستے کو بحفاظت عبور کر چکا ہے جبکہ دوسرا اس کے پیچھے آنے کے مرحلے میں ہے۔

یہ دونوں جہاز بھارت کی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ ان میں گھریلو استعمال کے لیے ایل پی جی گیس موجود ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد ایران نے اس سمندری راستے پر نگرانی سخت کر دی ہے جس کے باعث جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔

دنیا کی توانائی فراہمی کا اہم راستہ

آبنائے ہرمز کو دنیا کے سب سے اہم توانائی کے سمندری راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً بیس فیصد سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ خلیجی ممالک سے ایشیا اور یورپ جانے والے توانائی بردار جہازوں کے لیے یہ راستہ زندگی کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔

اسی لیے اگر اس آبنائے میں تناؤ یا رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس کا اثر نہ صرف علاقائی تجارت بلکہ عالمی توانائی منڈی اور تیل و گیس کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔

بھارت کے تقریباً چھبیس جہاز اب بھی پھنسے ہوئے

اگرچہ دو جہازوں کو اجازت ملنا بھارت کے لیے ایک مثبت خبر ہے، لیکن صورتحال اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ ذرائع کے مطابق بھارت کے تقریباً چھبیس جہاز اب بھی اس علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں ایل پی جی، خام تیل اور دیگر اہم سامان لے کر آنے والے ٹینکر بھی شامل ہیں۔

بھارتی حکومت ان جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہی ہے اور خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔

مغربی ایشیا کی جنگ سے بھارت کی پچاس ارب ڈالر آمدنی کو خطرہ

اس بحران کا اثر صرف توانائی کی فراہمی تک محدود نہیں ہے۔ بین الاقوامی میڈیا ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے بڑھتے تنازع کے باعث خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں بھارتیوں کے روزگار اور بھارت کو آنے والی اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر متاثر ہو سکتی ہیں۔

بھارت دنیا کا سب سے بڑا ترسیلاتِ زر حاصل کرنے والا ملک ہے۔ مختلف اقتصادی اندازوں کے مطابق بھارت کو ہر سال بیرون ملک مقیم بھارتیوں سے سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم موصول ہوتی ہے۔ اس میں سے تقریباً پچاس ارب ڈالر خلیجی ممالک — متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، کویت اور عمان — سے آتے ہیں۔

ان ممالک میں تقریباً نوے لاکھ سے ایک کروڑ بھارتی تارکینِ وطن کام کرتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد تعمیرات، تیل و گیس، خدمات اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں سے وابستہ مزدوروں کی ہے۔ یہی لوگ ہر سال اپنے خاندانوں کو اربوں ڈالر بھیجتے ہیں جو بھارت کی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔

بھارت کے سامنے توانائی اور معاشی دونوں چیلنجز

ماہرین کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری بحران بھارت کے سامنے دوہرا چیلنج پیدا کر سکتا ہے — ایک طرف توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارت پر اثرات، اور دوسری طرف خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں ممکنہ کمی۔

بھارت کی توانائی سلامتی اور بیرون ملک مقیم بھارتیوں کے معاشی کردار کو دیکھتے ہوئے یہ بحران مستقبل میں ملک کی معیشت اور خارجہ پالیسی دونوں کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے دو بھارتی ایل پی جی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینا وقتی طور پر بھارت کے لیے ایک اہم راحت ہے، لیکن مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ خطہ بھارت کی توانائی سلامتی، سمندری تجارت اور خلیجی ممالک سے آنے والی اربوں ڈالر کی آمدنی کے لیے انتہائی حساس ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر علاقائی تناؤ جلد کم نہ ہوا تو اس کے اثرات صرف تیل اور گیس کی سپلائی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بھارت کے لاکھوں خاندانوں کی آمدنی اور ملک کے زرمبادلہ کے نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

پریس کلب آف انڈیا میں سریندر گاڈلنگ کی رہائی کا مطالبہ گونجا، وکلا اور صحافیوں نے کہا: “جمہوری حقوق پر سنگین حملہ”

ملک کے چرچت بھیما کوریگاؤں معاملہ میں جیل میں قید عوامی وکیل سریندر گاڈلنگ کی