خلیجی خطے میں تناؤ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ڈرون اور میزائل حملوں کی ایک سلسلہ وار کارروائی شروع کر دی ہے۔ ان حملوں نے نہ صرف امریکی فوجی ٹھکانوں اور اہم شہری ڈھانچوں کو نشانہ بنایا بلکہ عالمی توانائی اور اقتصادی تحفظ پر بھی شدید اثر ڈالا ہے۔
بحرین اور قطر میں ہائی الرٹ
بحرین کی دارالحکومت منامہ میں فنانشل ہاربر ٹاورز، جہاں اسرائیلی سفارتخانہ قائم ہے، کے اوپر ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا گیا۔ بحرین ڈیفنس فورسز کے مطابق ایرانی حملوں میں 78 میزائل اور 143 ڈرون تباہ کیے گئے۔ قطر کے ال اڈید ایئر بیس پر بھی کئی ڈرون اور دو بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا۔
متحدہ عرب امارات اور کویت میں حملے
یو اے ای میں ابوظہبی کے آسمان میں میزائل اور ڈرون انٹرسپشن کی کارروائیاں جاری رہیں، جس کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہوئے۔ کویت کے ال سالم ایئر بیس کے قریب امریکی ٹھکانوں پر میزائل داغے گئے۔ کویت میں امریکی سفارتخانہ عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
ایران کی وارننگ اور عالمی ردعمل
ایران کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے حملے جاری رہیں گے۔ صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان نے پڑوسی ممالک کو پیغام دیا کہ امن اور استحکام صرف علاقائی تعاون سے ممکن ہے۔ چین اور روس نے ایران کو جدید الیکٹرانک وارفیئر آلات اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی فراہم کی ہے۔
عالمی سطح پر، یورپی یونین کے رہنماؤں نے خلیجی ممالک کی حمایت کی اور ایران کے حملوں کی مذمت کی۔ تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں کیونکہ خلیج ہرمز میں آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
علاقائی اور انسانی اثرات
اس تنازع میں اب تک 1,230 سے زائد ایرانی شہری، درجنوں اسرائیلی اور کچھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ متعدد شہری زخمی ہوئے ہیں اور فضائی سفر اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آئندہ دنوں میں حملوں کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
خلیجی ممالک اب اپنے شہریوں اور فوجی ٹھکانوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ قطر اور بحرین نے امریکی سفارتخانوں کے اطراف رہائشیوں کو عارضی طور پر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں یہ تنازع اب علاقائی جنگ اور عالمی بحران کا روپ اختیار کر چکا ہے۔ یہ محض فوجی ٹکراؤ نہیں بلکہ اقتصادی، سیاسی اور انسانی سلامتی کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکا ہے۔