مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ ایک جانب ایران نے سعودی عرب کے اس مؤقف کا خیرمقدم کیا ہے جس میں ریاض نے واضح کیا ہے کہ اس کی فضائی حدود، سمندری حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا، جبکہ ترکیہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے تناؤ کم کرنے کی اپیل کی ہے۔
سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران سعودی عرب کی اس یقین دہانی کو سراہتا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت متعدد مرتبہ واضح کر چکی ہے کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف کسی فوجی حملے کے لیے دستیاب نہیں ہوگی۔
عنایتی نے مزید بتایا کہ جنگ شروع ہونے سے قبل سعودی عرب نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی تھی اور خطے میں تصادم سے بچنے کی کوشش کی تھی۔
ترکیہ کا سخت ردعمل
دوسری جانب ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر بلا امتیاز میزائل اور ڈرون حملے کرنا “انتہائی غلط حکمتِ عملی” ہے، جس سے پورے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی.آر.ٹی ہیبر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فیدان نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی جنگوں اور بحرانوں سے گزر چکا ہے اور موجودہ تصادم پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
فیدان کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد حالات انتہائی سنگین ہو گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ فوجی مہم کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی سینئر فوجی افسران ہلاک ہو گئے، جس کے بعد تہران نے اسرائیل اور خلیجی خطے کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے کیے۔
جنگ کے پھیلنے کا خطرہ
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر جنگ اسی طرح جاری رہی تو اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے عالمی توانائی منڈی میں شدید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں یورپ سمیت کئی خطوں میں توانائی کا بحران اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
فیدان نے مزید کہا کہ جنگ کے پھیلنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر مہاجرین کا بحران بھی جنم لے سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ترکیہ اور دیگر ہمسایہ ممالک پر پڑے گا۔
سفارتی حل کی کوششیں
ترکیہ نے اس بحران میں ثالثی کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ فیدان کے مطابق انقرہ نے جنگ شروع ہونے سے قبل امریکہ اور ایران دونوں فریقوں سے رابطے کیے تھے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے استنبول میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات بھی کی تھی جس میں ممکنہ حل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
فیدان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جاتا تو ممکن ہے کہ جنگ کو ٹالا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اب بھی علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تنازع روکنے اور جنگ بندی کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
“اسرائیل کو صرف امریکہ ہی روک سکتا ہے”
ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کو روکنے کی صلاحیت صرف امریکہ کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی اور یورپی ممالک کو واشنگٹن کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ جنگ کے پھیلاؤ سے سب سے زیادہ نقصان انہی ممالک کو ہوگا۔
*تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کا محتاط اور نسبتاً غیر جانبدار مؤقف اور ترکیہ کی فعال سفارتی کوششیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ علاقائی طاقتیں اس تنازع کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا چاہتی ہیں، تاہم زمینی سطح پر جاری فوجی کارروائیوں کے باعث حالات اب بھی انتہائی نازک اور حساس ہیں۔