لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیل اور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے درمیان جاری تصادم نے عام شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ اسرائیل نے بیروت اور صور (ٹائر) پر فضائی حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ حزب اللہ نے سرحد پار سے راکٹ اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دیا ہے۔
حزب اللہ کا عزم
حزب اللہ کے نائب رہنما نعیم قاسم نے حال ہی میں کہا کہ ان کا گروہ “اسرائیلی-امریکی حملے کا مقابلہ کرے گا اور ہار نہیں مانے گا۔” انہوں نے لبنانی حکومت کے ہتھیار چھوڑنے کے منصوبے کو بھی رد کر دیا۔ قاسم نے خبردار کیا کہ حزب اللہ اپنے شہریوں اور علاقوں کی حفاظت کے لیے لڑائی جاری رکھے گا۔
اسرائیل کا فوجی آپریشن
اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات دہیہ اور صور پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ لیطانی ندی کے جنوب میں رہنے والے لوگوں کو شمال کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا۔ اب تک ان حملوں میں 120 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 80,000 لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ اسپتال، رہائشی عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔
انسانی بحران سنگین
جنوبی لبنان اور بیروت کے مضافاتی علاقوں سے لوگ شمال کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ مہاجرین کی بھیڑ اور ٹریفک جام کی صورتحال خوفناک ہے۔ ریلیف ایجنسیز متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن حالات انتہائی چیلنجنگ ہیں۔
حزب اللہ کی جوابی کارروائی
حزب اللہ نے جنوبی لبنان کے علاقوں میں راکٹ اور ڈرون حملے جاری رکھے ہیں۔ گروہ نے اپنے خاص تربیت یافتہ جنگجوؤں کو اسرائیلی فوجیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تعینات کیا ہے۔
علاقائی اور بین الاقوامی کشیدگی
یہ تصادم ایران-اسرائیل جنگ کے حصے کے طور پر پھیل رہا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے دونوں فریقوں سے ثالثی کی اپیل کی ہے۔
تصادم کا پس منظر
2026 کے اس تصادم نے 2023 سے جاری اسرائیل-حزب اللہ اور 2024 کے عارضی جنگ بندی کے بعد صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔