بھارت نے ایران کے سپریم لیڈر آیتاللّٰہ علی خامنہای کی شہادت پر باضابطہ افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے نئی دہلی میں واقع ایرانی سفارتخانے میں جا کر تعزیتی کتاب پر دستخط کیے اور حکومت کی جانب سے تعزیت کا پیغام پہنچایا۔
اسی دوران، وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور بھارت کی طرف سے افسوس کا اظہار کیا۔ ایرانی سفیر نے اس موقع پر متحدہ ریاستوں اور اسرائیل پر شدید تنقید کی اور انہیں خامنہای کی شہادت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
ردعمل میں تاخیر پر سوالات
بھارت کی یہ باضابطہ کارروائی خامنہای کے قتل کے تقریباً پانچ دن بعد سامنے آئی، جس پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ سابق بھارتی صدر اِبراہیم رئیسی کے انتقال پر بھارت نے فوری ردعمل دیا تھا، لیکن خامنہای کے قتل پر تاخیر پر تنقید کی گئی ہے۔
مودی حکومت کا لحن: توازن اور احتیاط
بھارت کی حکومت نے علاقائی کشیدگی میں کمی، مکالمہ اور سفارتی حل پر زور دیا، جبکہ کسی فریق کو براہِ راست مورد الزام ٹھہرانے سے گریز کیا۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دیگر عالمی رہنماؤں سے بات چیت میں کہا کہ فوجی تصادم مسائل کا حل نہیں اور خطے میں جلد امن قائم ہونا ضروری ہے۔
وزارتِ خارجہ نے غلط اطلاعات، جیسے “امریکی بحری بیڑے کے لیے بھارت کے بندرگاہوں کا استعمال”، کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔
عالمی پس منظر: کشیدگی میں اضافہ
خامنہای کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں ہلاک ہونے کی اطلاعات کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے 40 روزہ سوگ اور سات روزہ عوامی تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی امور کو برقرار رکھنے کے لیے عبوری کونسل نے انتظام سنبھالا۔
کچھ ذرائع کے مطابق خامنہای کے بیٹے مجتبیٰ کو نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کی کارروائی جاری ہے، لیکن اس کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔
بھارت میں داخلی ردعمل
بھارت میں شہادت پر اظہارِ غم اور حکومت کے ردعمل کی تاخیر پر سیاسی اور عوامی مباحثہ جاری ہے۔ کچھ حلقے بھارت کے سفارتی توازن کو اہم قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر حکومت پر واضح موقف نہ لینے پر تنقید کر رہے ہیں۔
بھارت نے ایران کے ساتھ تعلقات کا احترام کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمہ اور مذاکرات پر زور دیا۔
مودی حکومت کی خاموشی اور محتاط لحن عوام اور مبصرین میں مختلف تجزیے پیدا کر رہی ہے، خاص طور پر جب خطے کا جیوپولیٹیکل ماحول پہلے ہی کشیدہ ہے۔