جمعرات کو جنوبی قفقاز کے علاقے میں سیکیورٹی تناؤ عروج پر پہنچ گیا۔ آذربائیجان نے الزام عائد کیا کہ ایران سے آئے ہوئے ڈرونز نکھچیوان خودمختار خطے میں داخل ہوئے اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کے علاوہ ایک اسکول کے قریب گر گئے۔ اس حملے میں کئی افراد زخمی ہوئے اور ہوائی اڈے کی عمارت کو نقصان پہنچا۔
آذربائیجان کے وزارت خارجہ کے مطابق دو سے چار ڈرونز ایرانی سرحد پار کر کے نکھچیوان میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک ڈرون نکھچیوان ہوائی اڈے کے ٹرمینل بلڈنگ سے ٹکرایا جبکہ دوسرا ڈرون شیکرآباد گاؤں کے قریب اسکول کے نزدیک گرا۔
حملے کے فوری بعد مقامی میڈیا اور عینی شاہدین کے ویڈیوز منظر عام پر آئے، جن میں دھماکوں اور دھوئیں کے مناظر دکھائی دیے۔ حکام کے مطابق حملے کے وقت ہوائی اڈے کے ارد گرد شہری موجود تھے، جس سے انسانی جان اور مال کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔
آذربائیجان کا سخت موقف
حملے کے بعد آذربائیجان نے دارالحکومت باکو میں ایران کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج درج کرایا۔ صدر الہام علیو نے اسے “دہشت گردانہ حملہ اور اکساؤ کاروائی” قرار دیا اور کہا کہ ملک اپنی سیکیورٹی کے لیے ضروری جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ وزارت دفاع نے کہا کہ یہ حملہ ملک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اسے بلا جواب نہیں چھوڑا جائے گا۔
ایران کی تردید
تہران نے حملے سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ہمارا ملک پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرتا اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔
نکھچیوان کی جغرافیائی اہمیت
نکھچیوان آذربائیجان کا الگ تھلگ خطہ ہے، جو ایران، ترکی اور آرمینیا کی سرحدوں سے گھرا ہوا ہے۔ کسی بھی فوجی واقعے کا اثر پورے جنوبی قفقاز کی سیکیورٹی پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی اور خفیہ تعلقات ایران کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ تہران کا ماننا ہے کہ آذربائیجان کی زمین اسرائیل کے لیے ایران کے خلاف فوجی آپریشنز میں استعمال ہو سکتی ہے۔
علاقائی جنگ کا خطرہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آذربائیجان اس حملے کا جواب دیتا ہے تو یہ تصادم مشرق وسطیٰ سے جنوبی قفقاز تک پھیل سکتا ہے۔ ترکی، آرمینیا اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اس تناؤ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔