مشرقی وسطیٰ میں جاری تناؤ اب صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا بلکہ عراق، کویت، قطر، بحرین اور خلیج کے دیگر علاقوں تک پھیل چکا ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق، ایران نواز فورسز نے عراق میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو ڈرون اور میزائل حملوں سے نشانہ بنایا۔ کردستان کے علاقوں میں لاجسٹک سینٹرز اور فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے گئے، جن میں متعدد فوجی زخمی ہوئے۔
اسرائیل میں فضائی دفاعی الرٹ
وسطی اسرائیل میں ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے جواب میں ایئر ڈیفنس سسٹم نے انٹرسپٹرز لانچ کیے اور سائرن بجائے گئے۔ متعدد میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا، تاہم کچھ میزائل ہدف کی جانب بڑھتے بھی دیکھے گئے۔
ہرمز کی تنگی میں کشیدگی
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ ہرمز کے سمندری گذرگاہ سے تیل اور گیس کی نقل و حمل پر کنٹرول کرے گا، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔
فوجی اور تکنیکی تیاری
امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فضائی اور میزائل جوابی کارروائیوں کی حکمت عملی کو تیز کر دیا ہے، جبکہ ایرانی انقلاب پسند گارڈز نے اعلان کیا ہے کہ وہ میزائل، ڈرون اور جدید تکنیکی آلات کے ذریعے ردعمل دے رہے ہیں۔ چین اور روس کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی نے ایران کی صلاحیتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
انسانی اور اقتصادی اثرات
شہروں میں دھماکوں اور شہری نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تیل اور گیس کی عالمی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، جس سے بین الاقوامی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔