خلیج جنگ: کیا امریکہ ایران کے خلاف کردوں کو استعمال کرے گا؟ عراق سے کرد جنگجوؤں کی دراندازی کی خبروں سے کشیدگی میں اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے جاری کشیدگی کے دوران ایران-عراق سرحد سے ایک نیا اور تشویش ناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عراق کے کردستان علاقے میں موجود ہزاروں کرد جنگجو ایران کے خلاف ممکنہ زمینی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ کرد ملیشیا کے چند جنگجو ایران کے مغربی سرحدی علاقوں میں داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم ان خبروں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی کرد تنظیموں کے جنگجو حالیہ دنوں میں ایران-عراق سرحد سے ملحقہ علاقوں میں سرگرم دیکھے گئے ہیں۔ ان میں کردستان فری لائف پارٹی ، ڈیموکریٹک پارٹی آف ایرانی کردستان اور کردستان فریڈم پارٹی جیسے گروہ شامل بتائے جا رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان تنظیموں کی سرگرمیاں خاص طور پر ایران-عراق سرحد کے قریب واقع زاگروس پہاڑی سلسلے کے علاقوں میں بڑھ گئی ہیں۔

امریکی رابطوں کی خبریں، واشنگٹن کی تردید

کچھ بین الاقوامی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں کرد رہنماؤں اور امریکی حکام کے درمیان ممکنہ تعاون کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے کرد افواج کو ہتھیار فراہم کرنے یا ایران کے خلاف کسی زمینی کارروائی کی حمایت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

نجف کے صحرا میں پراسرار ہیلی کاپٹر سرگرمی

ادھر عراقی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ نجف کے صحرا میں چار سے سات ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایک فضائی آپریشن کیا گیا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد نگرانی کے آلات نصب کرنا یا ایران مخالف گروہوں کو مدد فراہم کرنا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی بھی ملک کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ایران کا ردِعمل: “نفسیاتی جنگ”

ایران نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی سرحدوں پر صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ ایرانی سکیورٹی اداروں اور اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور کے مطابق سرحدی علاقوں میں کسی بڑے پیمانے پر دراندازی کی تصدیق نہیں ہوئی اور اس نوعیت کی خبریں ممکنہ طور پر “نفسیاتی جنگ” کا حصہ ہیں۔

خطے میں عدم استحکام کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کرد جنگجو واقعی ایران کے اندر سرگرم ہوتے ہیں تو اس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ پہلے سے جاری جغرافیائی و سیاسی کشمکش کے درمیان یہ صورتحال خطے کے سکیورٹی توازن کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کرد گروہ طویل عرصے سے ایران میں سیاسی حقوق اور خودمختاری کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں اگر انہیں بیرونی حمایت ملتی ہے تو اس سے ایران کے اندر سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فی الحال صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور ایران-عراق سرحد پر بڑھتی سرگرمیوں پر بین الاقوامی برادری کی گہری نظر برقرار ہے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور