پٹنہ سے دہلی: راجیہ سبھا کی راہ پر نتیش کمار، جے ڈی یو میں بے چینی اور بہار کی سیاست میں ا تبدیلی اقتدار کی آہٹ

بہار کی سیاست میں ایک بڑا بدلاؤ سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے راجیہ سبھا جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس قدم نے ریاستی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور ان کی جماعت جنتا دل (یونائیٹڈ) کے اندر بھی اختلاف کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ راجیہ سبھا جانا ان کی سیاسی زندگی کی ایک پرانی خواہش رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خواب تھا کہ وہ بہار کی دونوں اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ مرکز کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے بھی رکن بنیں۔ انہوں نے بہار کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں عوام نے ان پر اعتماد کیا اور انہیں بار بار وزیرِ اعلیٰ بننے کا موقع دیا۔

دو دہائیوں کی سیاست کے بعد نئی ذمہ داری

نتیش کمار کو بہار کی سیاست کے سب سے بااثر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ کئی مرتبہ وزیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں اور ریاست میں ترقی، سڑکوں کی تعمیر، تعلیم اور قانون و نظم کے معاملات میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔ حال ہی میں ہونے والے 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے اتحاد نے اکثریت حاصل کی تھی اور نتیش کمار نے ایک بار پھر وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔

لیکن اب ان کے راجیہ سبھا جانے کے فیصلے کو بہار کی سیاست میں ایک “نئی اننگ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پارٹی کے اندر اختلاف اور کارکنان کا احتجاج

نتیش کمار کے اس فیصلے نے جے ڈی یو کے کئی رہنماؤں اور کارکنان کو بے چین کر دیا ہے۔ پٹنہ میں ان کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر بڑی تعداد میں کارکنان جمع ہوئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے ان سے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہنے کا مطالبہ کیا۔ کئی کارکنان کا کہنا ہے کہ بہار کے عوام نے انہیں وزیرِ اعلیٰ کے طور پر مینڈیٹ دیا ہے، اس لیے ان کا دہلی جانا مناسب نہیں ہوگا۔

کچھ کارکنان نے یہ بھی تجویز دی کہ راجیہ سبھا کے لیے وزیرِ اعلیٰ کے بیٹے نشانت کمار کو بھیجا جائے۔

بی جے پی–جے ڈی یو تعلقات پر بھی بحث

سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ اگر نتیش کمار راجیہ سبھا جاتے ہیں تو بہار میں قیادت کی تبدیلی تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے۔ ایسے میں ریاست کے اگلے وزیرِ اعلیٰ کو لے کر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور جے ڈی یو کے درمیان اقتدار کا توازن بھی بدل سکتا ہے۔

دراصل حالیہ انتخابات میں بی جے پی ریاستی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، جب کہ جے ڈی یو اتحاد کی اہم اتحادی بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں اقتدار کے نئے فارمولے کو لے کر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔

جانشین کے بارے میں قیاس آرائیاں

نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کی صورت میں بہار میں نئی قیادت کو لے کر بھی گفتگو شروع ہو گئی ہے۔ سیاسی حلقوں میں ان کے بیٹے نشانت کمار کے فعال سیاست میں آنے کے امکانات پر بھی چرچا ہو رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

بہار کی سیاست کے لیے ایک بڑا موڑ

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نتیش کمار وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ کر راجیہ سبھا جاتے ہیں تو یہ بہار کی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ تقریباً بیس برس تک ریاستی اقتدار کے مرکز میں رہنے والے رہنما کا پٹنہ سے دہلی جانا صرف ایک ذاتی سیاسی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ریاست کی اقتداری ساخت، اتحادی سیاست اور مستقبل کی قیادت—تینوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

فی الحال پورے بہار کی سیاست کی نظریں اسی بات پر مرکوز ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس فیصلے سے کیا نیا سیاسی رخ سامنے آتا ہے۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور