بھارتی قومی کانگریس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر ایرانی رہنماؤں کی مبینہ ہلاکت کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت کی خاموشی پر شدید تنقید کی ہے۔ پارٹی نے اسے بھارت کی روایتی خارجہ پالیسی کے اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کے احترام سے انحراف قرار دیا ہے۔
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے یہ کارروائی بغیر کسی جنگ کے اعلان کے انجام دی گئی۔ سونیا گاندھی نے زور دیا کہ بھارت کی یہ خاموشی نہ صرف خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری کے تصورات کو بھی کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقف بھارت کی عالمی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے اور اسے پارلیمان میں کھلی بحث اور واضح موقف کے ذریعے فوری طور پر چیلنج کرنا چاہیے۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اس قتل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ دنیا کو اب مزید جنگوں کی نہیں بلکہ امن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ مڈل ایسٹ میں مقیم بھارتی شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ پریانکا گاندھی نے کہا کہ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی میں واضح اور اصولی موقف اپنانا چاہیے۔
پارٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ کانگریس خامنہ ای کی ہلاکت کی واضح مذمت کرتی ہے اور ایرانی عوام اور بین الاقوامی شیعہ کمیونٹی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بیرونی طاقت کو کسی دوسرے ملک میں حکومت تبدیل کرنے کا حق نہیں ہے اور یہ اقدام خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت کو اپنے شہریوں کی حفاظت کو سب سے بڑی ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں واضح اور اصولی موقف اپنائے۔
ممبر پارلیمنٹ سکھ دیو بھگت نے کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک پر حملے کی مخالفت بھارت کی روایتی پالیسی رہی ہے، مگر موجودہ حکومت اس معاملے پر واضح موقف نہیں دکھا رہی۔ جبکہ راشد علوی نے اسرائیل کو “دہشت گرد ملک” قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ مختلف ممالک میں ایک ساتھ تشدد کی لہر جاری ہے۔
کانگریس کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی کے تین اہم ستون بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری کا احترام، امن پر مبنی پالیسی، بھارتی شہریوں کی حفاظت اس بحران میں چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔
کانگریس نے حکومت کی خاموشی کو خارجہ پالیسی کے اصولوں سے انحراف قرار دیا اور زور دیا کہ بھارت کو عالمی سطح پر واضح، مضبوط اور اصولی موقف اختیار کرنا چاہیے۔