مغربی ایشیا میں بڑھتا ہوا جنگی بحران: اقوام متحدہ کی سخت اپیل ’’اب سب سے زیادہ ضرورت راستہ نکالنے کی ہے‘‘، امریکی۔اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار

مغربی ایشیا میں شدت اختیار کرتے فوجی تصادم کے دوران اقوام متحدہ نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’اس وقت خطے کو ہر چیز سے بڑھ کر ایک راستے کی ضرورت ہے‘‘—ایسا راستہ جو تشدد کے نہ ختم ہونے والے دائرے کو روکے اور سفارتی حل کی جانب پیش رفت کو ممکن بنائے۔

اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقدہ معمول کی پریس بریفنگ کے دوران دوجارک نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری فوجی حملوں پر سخت تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ وسیع تر عالمی امن و سلامتی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کا احترام کرنے کی اپیل کی۔

سیکریٹری جنرل گوتیرش کے پیغام میں کہا گیا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتی۔ ’’ہمیں فوری طور پر کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی بحالی اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے،‘‘ ترجمان نے دہرایا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے اور کسی بھی فوجی کارروائی میں بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری ناگزیر ہے۔

دوسری جانب ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان اقدامات کو ’’سلامتی کے مفادات کے تحفظ‘‘ کے تناظر میں جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشات نے عالمی سطح پر تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے چند رکن ممالک نے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے تاکہ صورتحال پر فوری غور کیا جا سکے اور ممکنہ جنگ بندی کے امکانات تلاش کیے جا سکیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر بروقت سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو یہ تنازع وسیع تر علاقائی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مسئلے کا حل صرف بات چیت اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔ ’’اب وقت آ گیا ہے کہ بندوقیں خاموش ہوں اور مذاکرات کا آغاز ہو،‘‘ دوجارک نے کہا، اس اشارے کے ساتھ کہ عالمی برادری کو متحد ہو کر امن کی سمت عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

مغربی ایشیا کے اس نازک موڑ پر اقوام متحدہ کی یہ اپیل عالمی طاقتوں کے لیے ایک دوٹوک پیغام ہے—جنگ کا پھیلاؤ کسی کے مفاد میں نہیں، اور پائیدار امن ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

ایران جنگ میں مذہب کا استعمال: نیتن یاہو نے ‘عمالیک’ کا حوالہ دیا، امریکی فوج میں “آرمگیڈن” کی تشہیر کا دعویٰ

ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی اب صرف جغرافیائی یا سیاسی تنازعہ نہیں رہی۔ اسرائیل

چابہار پر اسرائیلی حملہ: ایران۔اسرائیل کشیدگی کے درمیان بھارت کی 370 ملین ڈالر سرمایہ کاری خطرے میں

مغربی ایشیا میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے دوران ایران