امریکہ نے بڑھتی ہوئی سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ کے 14 ممالک میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر وہاں سے نکلنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ سفری انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور عسکری سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور سیکیورٹی خطرات سنگین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ نے اپنے باضابطہ اعلامیے میں کہا ہے کہ مصر، ایران، عراق، اسرائیل، اردن، قطر، کویت، لبنان، عمان، بحرین، سعودی عرب، شام، یمن اور متحدہ عرب امارات میں مقیم امریکی شہری دستیاب کمرشل پروازوں یا محفوظ راستوں کے ذریعے جتنی جلد ممکن ہو ان ممالک سے روانہ ہو جائیں۔
محکمۂ خارجہ کی ہدایت میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ ممالک میں “سنگین سیکیورٹی خطرات” بدستور موجود ہیں، جن کے باعث امریکی حکومت اپنے شہریوں کی مکمل حفاظت کی ضمانت دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وہاں مقیم شہریوں کو فوری انخلا کے لیے آگاہ کریں تاکہ بعد ازاں محدود ہوتے ہوئے آپشنز کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ برسوں میں خطے کے حوالے سے جاری ہونے والی یہ سب سے جامع اور سخت شہری وارننگز میں سے ایک ہے۔ بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے پیشِ نظر امریکہ نے اپنے شہریوں کو غیر معمولی احتیاط برتنے، ہجوم والی جگہوں سے دور رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی تلقین کی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ممکنہ عسکری تصادم اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اگرچہ امریکی انتظامیہ نے کسی مخصوص واقعے کا حوالہ نہیں دیا، تاہم حالیہ پیش رفت نے خطے کی غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
فی الوقت امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سفری منصوبہ بندی کا فوری جائزہ لیں اور محفوظ مواقع میسر ہونے کے دوران خطہ چھوڑنے کو ترجیح دیں۔