ملوگو، تلنگانہ میں اس سال کے سمکا سرلما جاترا کے دوران ایک عام کووا بن فروش تنازعہ کی زد میں آ گیا۔ ایک یوٹیوب چینل نے فروش اور دیگر مسلم اسٹریٹ فوڈ فروشوں پر “فوڈ جہاد” کے الزامات لگائے، جس سے سماجی اور سیاسی بحث میں شدت آ گئی۔
“تیزسوی نیوز” نامی چینل نے پچھلے ہفتے کئی ویڈیوز شائع کیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ مسلم فروش “کم معیار اور ملاوٹ شدہ کووا بن” فروخت کر رہے ہیں۔ ویڈیوز میں بار بار “فوڈ جہاد” کے الفاظ استعمال کیے گئے۔
ویڈیو میں چینل کے اینکر بالو بالاجی گوڑ نے فروشوں سے پیکٹ پر مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری ڈیٹ کے بارے میں سوالات کیے۔ ایک کلپ میں فروش علی، جو کرنول، آندھرا پردیش سے آئے تھے، کو اپنے ہی بن کیمرا کے سامنے کھانے کے لیے مجبور کیا گیا۔ فروش بار بار کہتے دکھائی دیے کہ وہ صرف اپنی روزی روٹی کمانے آئے ہیں۔
مقامی لوگ اور ناظرین فروش کے حق میں سامنے آئے۔ کئی خاندانوں نے اپنے بچوں کو کووا بن کھلاتے دکھایا اور چینل کی تنقید کی۔
سیاسی ردعمل بھی شدید رہا۔ اسد الدین اویسی نے یوٹیوبرز کے خلاف پولیس کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے بعض رہنماؤں نے اسے فرقہ وارانہ اور غیر مناسب قرار دیا اور فروش کا حمایت کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف غذائی تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل میڈیا پر پھیلنے والے فرقہ وارانہ الزامات کی ایک مثال بھی ہے۔ اس تنازعے نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ تہواروں میں چھوٹے فروشوں کا احترام اور کمیونٹی کے اعتماد کو برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے۔