اوڈیشہ کے ضلع کندراپڑا کے راج نگر بلاک کے تحت واقع نواگاؤں میں ایک آنگن واڑی مرکز گزشتہ تقریباً تین ماہ سے مکمل طور پر بند ہے۔ الزام ہے کہ دلت برادری سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو معاونہ و باورچن مقرر کیے جانے کے بعد بعض دیہاتیوں نے اپنے بچوں کو مرکز بھیجنا بند کر دیا، جس کے نتیجے میں بچوں کی ابتدائی تعلیم اور غذائی سہولت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
20 سالہ گریجویٹ شرمِشتھا سیٹھی کی تقرری 20 نومبر 2025 کو ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ عہدہ سنبھالتے ہی مخالفت شروع ہو گئی۔ ان کے مطابق متعدد خاندان نہ صرف بچوں کو آنگن واڑی بھیجنے سے انکار کر رہے ہیں بلکہ بچوں کے لیے فراہم کیے جانے والے مفت غذائی اجزا—جیسے ستو اور انڈے—قبول کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ سیٹھی کا الزام ہے کہ یہ مخالفت ان کی ذات کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہایت کمزور معاشی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں اور سخت حالات میں یہ ملازمت حاصل کی ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں وہ معلمہ بنیں۔
آنگن واڑی کارکن کے مطابق مرکز میں 20 بچوں کا اندراج ہے، تاہم اس وقت ایک بھی بچہ حاضر نہیں ہو رہا۔ کارکنان نے گھر گھر جا کر والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو مرکز بھیجیں، مگر کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی۔
آنگن واڑی مراکز کا مقصد 3 سے 6 سال کی عمر کے بچوں کو ابتدائی تعلیم، تکمیلی غذا، ٹیکہ کاری میں تعاون اور صحت کی نگرانی فراہم کرنا ہے۔ یہ نظام وزارتِ خواتین و اطفال ترقی کے تحت چلایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق مرکز کے بند رہنے سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی ایک ٹیم نے گاؤں کا دورہ کیا۔ بال ترقی پروجیکٹ افسر دیپالی مشرا نے بتایا کہ مسئلے کے حل کے لیے بلائی گئی میٹنگ میں صرف سرپنچ، وارڈ ممبر اور دو دیہاتی شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ چاہتی ہے کہ بچے دوبارہ آنگن واڑی آنا شروع کریں تاکہ ان کی تعلیم اور غذائیت متاثر نہ ہو۔ آئندہ کارروائی اعلیٰ حکام کی ہدایات کے مطابق کی جائے گی۔
مشرا کے مطابق معاونہ و باورچن کی اسامی 2024 اور 2025 میں مشتہر کی گئی تھی اور شرمِشتھا سیٹھی واحد امیدوار تھیں۔ انہیں ماہانہ 5,000 روپے اعزازیہ دیا جاتا ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں بچوں کے لیے کھانا تیار کرنا، کھیل پر مبنی سرگرمیوں میں تعاون دینا اور صحت سے متعلق امور میں مدد فراہم کرنا شامل ہے۔
یہ معاملہ پارلیمان میں بھی زیر بحث آیا۔ راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملیکارجن کھڑگے نے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 21ویں صدی میں بھی کسی دلت خاتون کے تیار کردہ کھانے کو بچے قبول نہیں کر رہے تو یہ سماجی انصاف اور مساوات کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی مراکز بچوں کی ہمہ جہت ترقی کی بنیاد ہیں اور اس طرح کا امتیاز ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
فی الحال ضلعی انتظامیہ مرکز کو دوبارہ فعال بنانے اور بچوں کی حاضری یقینی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ نواگاؤں کا یہ واقعہ دیہی معاشرے میں ذات پات پر مبنی امتیاز کے مسئلے کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔