بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے تحت بڑی تعداد میں نامکمل مکانات کا مسئلہ اٹھایا گیا۔ دیہی ترقی کے وزیر شروَن کمار نے ایوان میں اعتراف کیا کہ مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے دوران منظور شدہ مکانات میں سے 9 لاکھ 16 ہزار 709 مکانات تاحال نامکمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے فنڈ کی مانگ کی گئی ہے اور رقم موصول ہوتے ہی زیرِ التوا ادائیگیاں کر دی جائیں گی۔

وزیر نے بتایا کہ دونوں مالی سالوں کے لیے مرکز سے 12 لاکھ 19 ہزار 615 مکانات کا ہدف ملا تھا، جس کے مقابلے میں 12 لاکھ 8 ہزار 327 مکانات منظور کیے گئے۔ ان میں سے 11 لاکھ 35 ہزار 835 مستفیدین کو پہلی قسط جاری کی جا چکی ہے، جبکہ 72 ہزار 493 مستفیدین کی پہلی قسط اب بھی زیرِ التوا ہے۔ پہلی قسط حاصل کرنے والوں میں سے 7 لاکھ 47 ہزار 366 مستفیدین کو دوسری قسط بھی مل چکی ہے، جبکہ 3 لاکھ 26 ہزار 950 افراد کو دوسری قسط کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔

ایوان میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ ادائیگی میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ SNA-SPARSH ماڈیول کے تحت رقم خرچ کرنے کی لازمی شرط رہی۔ انہوں نے کہا، “اس ماڈیول کے باعث عملی مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ ہم نے مرکزی حکومت سے سابقہ نظام کے تحت رقم جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ ہمیں اس میں رعایت مل چکی ہے۔ دیہی ترقی کی وزارت، حکومتِ ہند سے رقم ملتے ہی مستفیدین کو ادائیگی کر دی جائے گی۔”

اس معاملے پر اپوزیشن نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہزاروں خاندان نامکمل مکانات میں رہنے پر مجبور ہیں۔ رکنِ اسمبلی امریندر کمار نے سوال اٹھایا کہ جب بڑی تعداد میں مستفیدین کو پہلی اور دوسری قسط بروقت نہیں ملی تو تعمیراتی کام کیسے مکمل ہوگا۔ حکومت نے جواب میں کہا کہ فنڈ کی مانگ بھیج دی گئی ہے اور رقم دستیاب ہوتے ہی صورتحال معمول پر آ جائے گی۔

ادھر ریاست میں وزیرِ اعظم آواس یوجنا کی نئی فہرست بھی تیار کی جا رہی ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق 1 کروڑ 4 لاکھ 90 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ ابتدائی اندازے کے مطابق تقریباً 40 فیصد درخواستوں کے مسترد ہونے کا امکان ہے۔ اپوزیشن نے اس پر بھی سوال اٹھایا کہ جب پہلے سے منظور شدہ لاکھوں مکانات نامکمل ہیں تو نئی فہرست جاری کرنے کے عمل پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔

دیہی علاقوں میں کئی مستفیدین پہلی قسط سے جزوی تعمیر کرا چکے ہیں، لیکن دوسری قسط نہ ملنے کے باعث کام رک گیا ہے۔ تعمیراتی سامان کی بڑھتی قیمتوں نے بھی ان کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

اب سب کی نظریں مرکز کی جانب سے فنڈ جاری ہونے پر مرکوز ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ رقم ملتے ہی زیرِ التوا قسطوں کی ادائیگی کر دی جائے گی تاکہ نامکمل مکانات کی تعمیر جلد مکمل ہو سکے۔

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو