گوپال گنج ضلع کے بھورے اسمبلی حلقہ سے سی پی آئی (ایم ایل) کے سابق امیدوار، ریاستی کمیٹی کے رکن اور انقلابی نوجوان سبھا کے ریاستی صدر کامریڈ جتیندر پاسوان کو قتل کے ایک مقدمے میں نچلی عدالت کی جانب سے قصوروار قرار دیے جانے کے بعد بہار کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ سی پی آئی (ایم ایل) نے اس فیصلے کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی انتقام کا نتیجہ بتایا ہے۔
سی پی آئی (ایم ایل) کے ریاستی سکریٹری کنال نے پٹنہ میں جاری بیان میں کہا کہ جس مقدمے میں جتیندر پاسوان کو مجرم ٹھہرایا گیا ہے، اس سے ان کا کوئی براہِ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ معاملہ سیاسی عداوت سے متاثر ہے اور جنتا دل (یو) کے مقامی رکنِ اسمبلی و وزیرِ تعلیم سنیل کمار کے دباؤ میں فیصلہ متاثر ہوا ہے۔
کنال نے اعلان کیا کہ پارٹی اس فیصلے کو پٹنہ ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ ان کے مطابق سی پی آئی (ایم ایل) قانونی اور جمہوری طریقے سے انصاف کی لڑائی لڑے گی اور اعلیٰ عدالت سے غیر جانبدارانہ سماعت کی توقع رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوک سبھا سے لے کر بہار اسمبلی تک اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوششیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اپوزیشن اراکین کو ایوان میں بولنے کا موقع نہیں دیا جا رہا اور بعض مواقع پر مارشل کے ذریعے باہر نکالا جا رہا ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
سی پی آئی (ایم ایل) نے مطالبہ کیا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کو ایوان کے اندر اپنی بات رکھنے اور عوامی مسائل اٹھانے کا مکمل حق دیا جائے اور جمہوری بحث و مباحثہ کی روایت کو برقرار رکھا جائے۔
ادھر اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں سرگرمی بڑھ گئی ہے اور اب نظریں پٹنہ ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی اپیل پر مرکوز ہیں۔