نیشنل پاپولیشن رجسٹر پر کیرالا کی بائیں بازو کی حکومت کا اٹل مؤقف,کیرالا میں نہیں ہوگا نافد

کیرالا کی بائیں بازو کی جمہوری محاذ حکومت نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر کو ریاست میں کسی بھی حال میں نافذ نہیں کیا جائے گا، خواہ آئندہ قومی مردم شماری دو ہزار ستائیس کا عمل ہی کیوں نہ شروع ہو جائے۔ ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں تازہ نوٹیفکیشن جاری کر کے اپنے اس موقف کو باضابطہ طور پر دہرا دیا ہے جو پہلی مرتبہ سال دو ہزار انیس میں اختیار کیا گیا تھا۔

ریاستی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ قومی مردم شماری کے دوران نیشنل پاپولیشن رجسٹر سے متعلق کسی بھی قسم کا ڈیٹا جمع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر اور اس سے جڑے اقدامات عوام میں خوف، غیر یقینی اور امتیازی سلوک کے خدشات کو جنم دیتے ہیں، جو آئینی اصولوں کے منافی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنرائی وجیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کیرالا حکومت آئین ہند میں درج جمہوری اقدار، سیکولر کردار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کیرالا وہ پہلی ریاست تھی جس نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف نہ صرف ریاستی اسمبلی میں قرارداد منظور کی بلکہ بعد ازاں اس قانون کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا۔

ریاستی حکومت کے مطابق بیس دسمبر دو ہزار انیس کے بعد سے نیشنل پاپولیشن رجسٹر سے متعلق تمام سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہیں اور یہ معطلی بدستور برقرار رہے گی۔ حکومت نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ قومی مردم شماری کے دوران نیشنل پاپولیشن رجسٹر یا نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز سے متعلق کوئی معلومات جمع نہیں کی جائیں گی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے حالیہ بجٹ میں قومی مردم شماری اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر کے لیے مالی وسائل میں اضافے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر کو دوبارہ نافذ کیا جا سکتا ہے، تاہم کیرالا حکومت نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مؤقف کو مزید مضبوطی سے دہرا دیا ہے۔

ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے عمل کو کیرالا میں نافذ نہیں ہونے دے گی جو آئین ہند کی روح کے خلاف ہو یا عوام کے شہری حقوق، سماجی ہم آہنگی اور مذہبی و سماجی تنوع کے لیے خطرہ بنے۔ حکومت کے مطابق نیشنل پاپولیشن رجسٹر اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز جیسے اقدامات عوام کو تقسیم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

کیرالا حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی آئینی اقدار، جمہوری روایات اور عوامی اعتماد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی رہے گی اور کسی بھی امتیازی یا متنازعہ عمل کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور