مغربی بنگال اسمبلی کا بجٹ اجلاس جمعہ کے روز اُس وقت شدید سیاسی ٹکراؤ کا گواہ بنا، جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکنِ اسمبلی اگنی مترا پال نے مدرسہ تعلیم کے حوالے سے ایک متنازع بیان دیا۔ حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے اس بیان کو اقلیتی برادری کو جرم سے جوڑنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا، جس کے بعد ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی اور کارروائی بار بار متاثر ہوئی۔
عبوری ریاستی بجٹ پر بحث کے دوران اگنی مترا پال نے ریاستی حکومت کی جانب سے مدارس کو دی جانے والی مالی امداد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے اقلیتی برادری کا حقیقی تعلیمی اور سماجی ارتقا نہیں ہو رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اداروں سے ڈاکٹر، انجینئر یا اساتذہ تیار نہیں ہو رہے، بلکہ نوجوانوں کا ایک طبقہ “جرائم کی طرف مائل ہو رہا ہے۔” اس بیان کے ساتھ ہی ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔
ٹی ایم سی کے اراکینِ اسمبلی نے متحد ہو کر اس بیان کی شدید مخالفت کی اور اسے فرقہ وارانہ اور توہین آمیز قرار دیا۔ کابینہ وزیر اور کولکاتا کے میئر فرہاد حکیم اور سینئر وزیر شوبھندیو چٹوپادھیائے نے اسمبلی اسپیکر بیمان بنرجی کو تحریری اعتراض پیش کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے مداخلت کی اور اگنی مترا پال کے متنازع بیانات کو ایوان کی کارروائی سے حذف (ایکسپنج) کرنے کی ہدایت دی۔
ایوان میں جواب دیتے ہوئے فرہاد حکیم نے کہا کہ کسی بھی برادری یا تعلیمی نظام کو جرم سے جوڑنا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں اس طرح کی زبان قابلِ قبول نہیں اور پال سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں حکیم نے الزام لگایا کہ بی جے پی رکنِ اسمبلی نے عوامی زندگی کی حدود پامال کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کا ملک کی آزادی کی جدوجہد اور قومی تعمیر میں اہم کردار رہا ہے۔ سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کا حوالہ دیتے ہوئے حکیم نے کہا کہ تاریخ خود ایسے الزامات کی تردید کرتی ہے۔
اس معاملے پر ریاست کے وزیر برائے فروغِ تعلیم و کتب خانہ خدمات صدیق اللہ چودھری نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے سے کوئی مجرم نہیں بنتا اور اس طرح کے تبصرے پر عوامی معافی مانگی جانی چاہیے۔ چودھری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بنگال میں ہر سال سینکڑوں مسلم طلبہ مرکزی دھارے کے مسابقتی امتحانات، بالخصوص مشترکہ داخلہ امتحانات، میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، جو اقلیتی سماج کی تعلیمی پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔
بی جے پی کی جانب سے تاہم یہ موقف اختیار کیا گیا کہ رکنِ اسمبلی نے تعلیم کے نظام اور سرکاری اخراجات کی مؤثریت پر سوال اٹھائے ہیں، نہ کہ کسی برادری پر۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ تعلیمی نتائج پر بحث کو فرقہ وارانہ رنگ دینا مناسب نہیں۔
مدارس، اقلیتی تعلیم اور سیاسی بیان بازی پر اٹھا یہ تنازع بجٹ اجلاس کا ایک بڑا موضوع بن گیا ہے۔ حکمراں ٹی ایم سی اور اپوزیشن بی جے پی کے درمیان بڑھتا ہوا یہ تصادم نہ صرف ایوان کی کارروائی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ ریاستی سیاست میں ایک نئی خلیج کو بھی بے نقاب کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مسئلے پر سیاسی بیان بازی مزید تیز ہونے کے آثار ہیں۔