بہار کی سیاست میں ایک بار پھر باہوبلی رہنماؤں کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے۔ موکاما سے جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے ایم ایل اے اور باہوبلی لیڈر اننت سنگھ منگل، 3 فروری 2026 کو رکنِ اسمبلی کے عہدے کا حلف لیں گے۔ دولارچند یادو قتل معاملے میں جیل میں بند اننت سنگھ کو پٹنہ سول کورٹ سے خصوصی اجازت ملنے کے بعد حلف برداری کا راستہ صاف ہوا ہے۔
عدالت کے حکم کے مطابق، اننت سنگھ کو سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان جیل سے بہار اسمبلی کیمپس لایا جائے گا۔ حلف برداری کی رسمی کارروائی مکمل ہوتے ہی انہیں دوبارہ جیل واپس بھیج دیا جائے گا۔ اس دوران نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔
اننت سنگھ اس وقت دولارچند یادو قتل کیس میں عدالتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے جیل میں رہتے ہوئے ہی موکاما اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی۔ الیکشن جیتنے کے باوجود وہ اب تک ایم ایل اے کے عہدے کا حلف نہیں لے سکے تھے۔ اب عدالت کی اجازت کے بعد ان کی حلف برداری کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
جے ڈی یو کے ترجمان نول شرما نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اننت سنگھ پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب جیت کر ایم ایل اے بنے ہیں اور قانون کے تحت انہیں حلف لینے کا حق حاصل ہے۔
نول شرما نے کہا، “عدالت سے اجازت مل چکی ہے۔ پارٹی عدالتی فیصلے کا احترام کرتی ہے اور اننت سنگھ بھی قانون کا احترام کرتے ہیں۔”
اننت سنگھ پانچویں بار بہار اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ وہ سال 2005 سے مسلسل سیاست میں سرگرم ہیں۔ بہار اسمبلی کی کل 243 نشستوں میں سے 242 ارکان پہلے ہی حلف لے چکے ہیں۔ اننت سنگھ واحد ایم ایل اے تھے جن کی حلف برداری زیر التوا تھی، جو اب 3 فروری کو مکمل کی جائے گی۔
اسمبلی انتخابات کے دوران موکاما علاقے میں تشدد ہوا تھا، جس میں دولارچند یادو کی موت ہو گئی تھی۔ دولارچند یادو جن سوراج پارٹی کے امیدوار پیوش پریہ درشی کے حق میں انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ اسی دوران اننت سنگھ کے حامیوں اور مخالف گروپ کے حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کے بعد مارپیٹ اور فائرنگ کے واقعات سامنے آئے۔
ابتدا میں دولارچند یادو کی موت کی وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ گولی ان کے پیر میں لگی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، پیٹھ پر کسی بھاری چیز سے زور دار دھکا لگنے کے باعث پسلیاں ٹوٹ گئیں، جس سے پھیپھڑا پھٹ گیا اور کارڈیو ریسپائریٹری فیلئر کے سبب ان کی موت واقع ہوئی۔
مہلوک کے اہلِ خانہ اور حامیوں نے الزام لگایا تھا کہ اننت سنگھ کے حامیوں نے دولارچند یادو کو گاڑی سے کچل کر قتل کیا۔ اس معاملے میں اننت سنگھ کو مرکزی ملزم بنایا گیا۔
2 نومبر کو اننت سنگھ سمیت دو حامیوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ جیل میں بند ہیں۔
جیل میں بند ایک ایم ایل اے کا اسمبلی پہنچ کر حلف لینا ایک بار پھر بہار میں سیاست اور جرائم کے باہمی تعلق پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ ایک طرف عدالت کا حکم ہے، تو دوسری طرف سنگین مجرمانہ الزامات میں گھرے ایک عوامی نمائندے کی حلف برداری سیاسی اور اخلاقی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔