منگلورو میں ایس.ڈی.پی.آئی کی قومی نمائندہ کونسل کا اجلاس، 18 اہم قراردادیں منظور

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی چھٹی دو روزہ قومی نمائندہ کونسل کا اجلاس 20 اور 21 جنوری 2026 کو منگلورو کے انڈیانا کنونشن سینٹر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر کی تمام ریاستوں سے آئے نمائندوں نے شرکت کی، جو پارٹی کی قومی سطح پر بڑھتی ہوئی تنظیمی توسیع کی عکاسی کرتا ہے۔

کونسل کا افتتاح قومی نائب صدر محمد شفیع نے پارٹی پرچم لہرا کر کیا۔ پروگرام کی نظامت قومی جنرل سیکریٹری محمد اشرف نے کی، جبکہ قومی جنرل سیکریٹری سیتارام کھوئیوال نے نمائندوں کا خیرمقدم کیا۔

اپنے صدارتی خطاب میں قومی نائب صدر محمد شفیع نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، جمہوری اداروں کو درپیش چیلنجز اور آئینی اقدار کے تحفظ میں پارٹی کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ کونسل کے سامنے مدتی ورکنگ رپورٹ قومی جنرل سیکریٹری محمد الیاس تمبے، سیتارام کھوئیوال، یاسمین فاروقی اور پی عبدالمجید فیضی نے پیش کی، جبکہ سیاسی رپورٹ محمد الیاس تمبے نے پیش کی۔ تفصیلی بحث کے بعد دونوں رپورٹس کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ملک میں مبینہ آمرانہ رجحانات میں اضافہ، وفاقی نظام کی کمزوری، فرقہ وارانہ پولرائزیشن، تفتیشی ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال اور پارٹی کی آئندہ سیاسی و تنظیمی حکمتِ عملی پر جامع غور و خوض کیا گیا۔

اس کے بعد نئی قومی عاملہ کا انتخاب عمل میں آیا۔ یہ عمل ریٹرننگ افسران مولانا عبیداللہ خان اعظمی (سابق رکنِ پارلیمنٹ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر) اور ایڈووکیٹ کے پی محمد شریف کی نگرانی میں مکمل ہوا۔ جمہوری طریقۂ کار کے تحت 45 رکنی قومی عاملہ تشکیل دی گئی۔

نومنتخب قومی عاملہ کے اجلاس میں جیل میں بند رہنما ایم کے فیضی کو ایک بار پھر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کا قومی صدر منتخب کیا گیا۔ پارٹی نے اسے سیاسی انتقام کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور جمہوری اقدار سے وابستگی کی علامت قرار دیا۔ محمد شفیع کو کارگزار صدر مقرر کیا گیا، جبکہ شیخ محمد دہلان باقوی اور سیتارام کھوئیوال کو قومی نائب صدور نامزد کیا گیا۔

اجلاس میں قومی جنرل سیکریٹریوں، سیکریٹریوں اور دیگر عہدیداران کے ناموں کا بھی اعلان کیا گیا اور نئی قومی سیکریٹریٹ تشکیل دی گئی۔

قومی نمائندہ کونسل میں ملکی اور عالمی سطح کے اہم مسائل پر مجموعی طور پر 18 قراردادیں منظور کی گئیں۔ ان میں قومی صدر ایم کے فیضی کی گرفتاری اور تفتیشی ایجنسیوں کے مبینہ سیاسی غلط استعمال کی مذمت، ایس آئی آر عمل کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ، یو اے پی اے کی منسوخی یا اس میں بنیادی ترمیم، طویل عرصے سے جیل میں بند زیرِ سماعت قیدیوں کی رہائی، اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور بااختیار بنانے، ذات پر مبنی مردم شماری، کسانوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت کی قانونی ضمانت، عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کا دفاع اور وفاقیت کے تحفظ جیسے نکات شامل تھے۔

اس کے علاوہ انتخابی اصلاحات، مساوی مواقع کمیشن کے قیام، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، دیہی ترقی کو ترجیح دینے، ماحولیاتی تبدیلی پر فوری اقدامات اور فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت سے متعلق قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔

دو روزہ قومی نمائندہ کونسل کا اختتام جمہوری جدوجہد کو مضبوط بنانے، تنظیمی رسائی میں توسیع اور آئین، سماجی انصاف اور سیکولر جمہوریت کے تحفظ کے عزم کے ساتھ ہوا۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور