بہار کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے قیادت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے تیجسوی یادو کو پارٹی کا قومی ورکنگ صدر مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی 1997 میں پارٹی کے قیام کے بعد سے قومی صدر کے طور پر خدمات انجام دینے والے لالو پرساد یادو کے طویل سیاسی دور کا باضابطہ اختتام ہو گیا ہے۔ اب پارٹی کی تنظیمی اور حکمتِ عملی سے متعلق ذمہ داریاں تیجسوی یادو سنبھالیں گے۔
اس فیصلے کا اعلان آر جے ڈی کی قومی عاملہ کی میٹنگ کے افتتاحی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں پارٹی سپریمو لالو پرساد یادو، سابق وزیرِ اعلیٰ رابڑی دیوی سمیت متعدد سینئر رہنما موجود تھے۔ اسی موقع پر لالو پرساد یادو نے اپنے بیٹے تیجسوی یادو کو تقرری نامہ سونپا۔
پارٹی نے اپنے آفیشیل ایکس (X) ہینڈل پر کہا۔“ایک نئے دور کا آغاز! تیجسوی یادو جی کو راشٹریہ جنتا دل کا قومی عامل صدر مقرر کیا گیا ہے۔”
آر جے ڈی کے ترجمان اعجاز احمد نے بتایا کہ قومی صدر کی منظوری کے بعد قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو کو قومی ورکنگ صدر بنانے کی تجویز پیش کی گئی، جسے قومی عاملہ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ تیجسوی یادو اب پارٹی اور قومی صدر کی ہدایات کے مطابق تنظیمی امور کی قیادت کریں گے۔
تیجسوی یادو، سابق وزیرِ اعلیٰ لالو پرساد یادو کے چھوٹے بیٹے ہیں۔ وہ بہار کے نائب وزیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں اور اس وقت بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں آر جے ڈی نے تیجسوی یادو کی قیادت میں انتخابی میدان میں اتر کر مقابلہ کیا تھا، تاہم پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انتخابی نتائج کے بعد سے پارٹی میں خود احتسابی اور تنظیمی اصلاحات کا عمل جاری تھا۔ تیجسوی یادو کی یہ تقرری اسی عمل کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم آر جے ڈی کو نئی سمت دینے اور نوجوان قیادت کے ذریعے تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔