قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے مہارشی دیانند یونیورسٹی، روہتک کے طالب علم اور طلبہ ایکتا منچ کے صدر ابھیشیک کو “لکھنؤ سازش کیس” کے تحت نوٹس جاری کیا ہے۔ اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ رپریشن نے اسے طالب علموں اور سماجی کارکنوں پر جاری ظلم و ستم کی ایک نئی کڑی قرار دیا ہے۔
کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ رپریشن نے کہا کہ ابھیشیک کے خلاف نوٹس بغیر ٹھوس شواہد اور مبہم الزامات کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ تنظیم نے اسے علمی آزادی اور جمہوری حقوق پر حملہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس سے پرامن طلبہ تحریک اور سماجی سرگرمیوں کو جرم کے زمرے میں ڈالنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تنظیم نے یہ بھی یاد دلایا کہ جولائی 2025 میں پریانشو کشنپ، دہلی یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور دہلی جنرل مزدور فرنٹ کے کارکن کو اسی معاملے میں این آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔ پریانشو کے خلاف کارروائی کو سیاسی دباؤ اور سماجی تحریکوں پر قابو پانے کا حصہ قرار دیا گیا۔
کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ رپریشن نے حکومت سے پانچ اہم مطالبات کیے ہیں:
1,ابھیشیک کے خلاف جاری نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے۔
2.پریانشو کشنپ اور دیگر گرفتار افراد کو فوری رہائی دی جائے۔
3.طالب علموں اور کارکنوں کو جمہوری حقوق کے استعمال پر سزا نہ دی جائے۔
4.یونیورسٹیوں کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔
5.طلبہ اور سماجی تحریکوں کے لیے محفوظ اور آزاد ماحول فراہم کیا جائے۔
کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ رپریشن نے ابھیشیک، پریانشو اور طلبہ ایکتا منچ کے ساتھ ہمدردی اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے پرامن احتجاج اور جمہوری حقوق کے تحفظ کا عندیہ دیا۔ اس کے ساتھ ہی تنظیم نے اے آئی آر ایس او، اے آئی ایس ایف، اے پی سی آر، اے ایس اے، بی اے ایس ایف، بی ایس ایم، بھیم آرمی سمیت 40 سے زائد طلبہ اور سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر ریاستی ظلم کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیاں خیالات کی آزادی اور بحث کے لیے پلیٹ فارم ہونی چاہئیں، نہ کہ خیالات اور اختلاف رائے کو سزا دینے کی جگہ۔