بھارتی کمیونسٹ پارٹی (مارکس وادی) نے پیر کے روز مہاراشٹر کے پالگھر ضلع میں چاروتی (دہانو) سے ضلعی ہیڈکوارٹر تک تقریباً پچاس ہزار افراد کے ساتھ ایک عظیم الشان پیدل مارچ نکالا۔ اس مارچ میں کسانوں، آدیواسیوں، مزدوروں، خواتین، نوجوانوں اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
تقریباً پچاس کلو میٹر طویل اس پیدل مارچ کا مقصد مرکز اور ریاستی حکومت کی توجہ دیہی روزگار ضمانت اسکیم کی بحالی، جنگلاتی حقوق قانون کے مکمل نفاذ، بجلی کے اسمارٹ میٹر لگانے کی اسکیم کو واپس لینے اور چار محنت قوانین کو منسوخ کرنے جیسے مطالبات کی جانب مبذول کرانا تھا۔
منگل کو یہ مارچ پالگھر کے ضلع کلکٹر دفتر پہنچا، جہاں مظاہرین نے اپنی مانگوں کے حق میں دھرنا دیا۔ تحریک کے پیش نظر پورے راستے میں پولیس کی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق مارچ پوری طرح پرامن رہا۔
مظاہرین کے اہم مطالبات میں دیہی روزگار ضمانت اسکیم کو کمزور کرنے والی پالیسیوں کی واپسی، آدیواسیوں کے جنگلاتی حقوق کی باضابطہ منظوری، بجلی کے اسمارٹ میٹر نصب کرنے کے منصوبے کی منسوخی اور مزدور مخالف قرار دیے جانے والے چار محنت قوانین کو ختم کرنا شامل تھا۔ اس کے علاوہ مجوزہ ودھوان اور مُربے بندرگاہ منصوبوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی زور و شور سے اٹھایا گیا۔
مارچ کی قیادت پارٹی کے پولٹ بیورو کے رکن اور آل انڈیا کسان سبھا کے صدر ڈاکٹر اشوک دھوالے، کسان سبھا کے جنرل سیکریٹری وجو کرشنن سمیت دیگر رہنماؤں نے کی۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ کی جانب سے مطالبات پر تحریری اور وقت کے پابند وعدے نہیں کیے گئے تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا اور اسے ممبئی تک لے جایا جا سکتا ہے۔
ضلع کلکٹر دفتر کے باہر احتجاج کے باعث کچھ وقت کے لیے ٹریفک متاثر رہی۔ انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کی کوششیں جاری تھیں۔