پٹنہ ہائی کورٹ سے ڈاکٹروں کو بڑا جھٹکا: آدھار–فیس بایومیٹرک حاضری اور جی.پی.ایس کی لازمی شرط برقرار، عرضی مسترد

پٹنہ ہائی کورٹ نے میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں کام کرنے والے فیکلٹی ارکان کے لیے آدھار پر مبنی فیس بایومیٹرک حاضری اور جی پی ایس لوکیشن شیئر کرنے کی لازمی شرط کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ نظام رازداری کے بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی اسے غیر آئینی قرار دیا جا سکتا ہے۔

جسٹس وویک چودھری کی سنگل بنچ نے ڈاکٹر شیام کمار سمیت دیگر عرضی گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کے بعد کہا کہ یہ انتظام “اچھے نظم و نسق اور جوابدہی” کے مقصد سے نافذ کیا گیا ہے۔ عدالت نے مانا کہ میڈیکل تعلیم اور صحت خدمات میں نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے ایسے تکنیکی اقدامات ضروری ہیں۔

عرضی گزار ڈاکٹروں نے نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کی جانب سے 16 اپریل 2025 کو جاری کی گئی عوامی اطلاع کو چیلنج کیا تھا، جس میں ملک بھر کے تمام میڈیکل کالجوں میں فیکلٹی ارکان کے لیے آدھار پر مبنی فیس آتھنٹیکیشن کے ذریعے حاضری درج کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا، اور اس کے ساتھ جی پی ایس لوکیشن شیئر کرنے کی شرط بھی شامل تھی۔

ڈاکٹروں کا مؤقف تھا کہ یہ نظام آئین کے آرٹیکل 14، 19 اور 21 کے تحت حاصل رازداری، آزادی اور وقار کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس سے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور اس کے ممکنہ غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ہائی کورٹ نے ان دلائل کو قبول نہیں کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملک کے کئی میڈیکل کالجوں میں پہلے ہی بایومیٹرک حاضری کا نظام نافذ ہے، اور محض ممکنہ خدشات کی بنیاد پر کسی انتظام کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ این ایم سی ایک قانونی ادارہ ہے اور اسے میڈیکل تعلیم کے معیار، شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کا اختیار حاصل ہے۔

تاہم عدالت نے حکومت اور این ایم سی کو ایک اہم پیغام بھی دیا۔ عدالت نے کہا کہ صرف حاضری کا نظام نافذ کرنے سے ہی صحت کے نظام میں بہتری نہیں آئے گی، بلکہ میڈیکل تدریسی خدمات میں خالی آسامیوں کو بروقت بھرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومتوں اور این ایم سی کو اس سمت میں ٹھوس اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس معاملے پر بہار میں ڈاکٹروں کی جانب سے احتجاج بھی سامنے آ چکا ہے۔ بہار ہیلتھ ایسوسی ایشن نے اس نظام کے خلاف تحریک چلائی تھی، اور کئی مقامات پر ڈاکٹروں نے ہڑتال اور او پی ڈی خدمات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث عام مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پٹنہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں آدھار-فیس بایومیٹرک حاضری اور جی پی ایس پر مبنی نگرانی کا نظام جاری رہے گا۔ اسے صحت انتظامیہ میں شفافیت اور جوابدہی کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور